سرکاری اراضی عوامی امانت، قانونی تقاضوں پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے، چیئرمین نیب

چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ سرکاری اراضی عوامی امانت ہے، اس کے تحفظ، قانونی انتظام اور تصرف کے لئے تمام آئینی و قانونی تقاضوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا، سرکاری اراضی کی مؤثر شناخت، تحفظ اور بازیابی کے لئے ادارہ جاتی تعاون اور مربوط اقدامات ضروری ہیں۔

پشاور۔17ستمبر (اے پی پی):چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ سرکاری اراضی عوامی امانت ہے، اس کے تحفظ، قانونی انتظام اور تصرف کے لئے تمام آئینی و قانونی تقاضوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا، سرکاری اراضی کی مؤثر شناخت، تحفظ اور بازیابی کے لئے ادارہ جاتی تعاون اور مربوط اقدامات ضروری ہیں۔ترجمان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخوا میں سرکاری اراضی کی لیز، قانونی فریم ورک، ریونیو افسران کی ذمہ داریوں اور متعلقہ مسائل کے موضوع پر منعقدہ بریفنگ سیشن سے بذریعہ زوم خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیشن میں پراسیکیوٹر جنرل اکاؤنٹیبلٹی سید احتشام قادر شاہ، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، چیئرمین نیب کے مشیران، نیب کے ڈائریکٹر جنرلز، صوبائی سیکرٹریز، مختلف محکموں کے سربراہان اور نیب و صوبائی انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ سرکاری اہلکار اپنے اختیارات قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے استعمال کریں اور تمام متعلقہ قانونی و آئینی تقاضوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ماضی میں اگر کوئی کوتاہیاں ہوئی ہیں تو توجہ اصلاحی اقدامات، ادارہ جاتی بہتری اور قانون کی پاسداری پر مرکوز ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ورکشاپ کے دوران سامنے آنے والے مسائل کے حل کے لئے جامع روڈ میپ اور مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔ سیشن میں بتایا گیا کہ چیئرمین نیب نے 2025 میں لینڈ ڈائریکٹوریٹ قائم کیا تھا جس کا مقصد سرکاری اثاثوں پر قبضے، غیر قانونی الاٹمنٹ اور سرکاری اثاثوں کی جعلی یا غیر قانونی منتقلی کی روک تھام ہے۔

اس اقدام کے تحت 2025 کے دوران ملک بھر میں 29 لاکھ 80 ہزار ایکڑ اراضی، جس کی مالیت 5.976 ٹریلین روپے ہے، بازیاب کرائی گئی جبکہ 2026 میں بھی سرکاری اراضی کی بازیابی کا عمل جاری ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں سرکاری اراضی کے ریکارڈ کے جائزے کے دوران مختلف بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ سرکاری اراضی سے متعلق مرکزی ریکارڈ نہ ہونے کے باعث ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کے ریکارڈ میں ڈیٹا کے خلا اور تضادات پائے گئے جبکہ محکموں کے حقیقی استعمال کے حقوق کے حوالے سے بھی ابہام موجود ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بورڈ آف ریونیو کی منظوری کے بغیر غیر مجاز لیز، رہن اور سرکاری اراضی پر قبضوں کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ان مسائل کے حل اور ڈیٹا کے خلا ء کو دور کرنے کے لئے نیب خیبرپختونخوا نے اسٹیٹ لینڈ مینجمنٹ سسٹم تیار کیا ہے جو صوبے کی تمام سرکاری اراضی کا ریکارڈ ایک واحد اور قابلِ تلاش ڈیٹا بیس میں مرتب کرتا ہے۔

چیئرمین نیب کے مشیر برائے اراضی امور احمد علی ظفر نے خیبر پختونخوا میں لینڈ ریونیو معاملات کے قانونی فریم ورک، ریونیو اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں اور فرائض کے موضوع پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے اراضی و ریونیو معاملات کے تاریخی پس منظر اور موجودہ قانونی فریم ورک کا جائزہ پیش کیا۔پریزنٹیشن میں ریونیو افسران کی تعیناتی اور ان کے فرائض، ریونیو معاملات میں سول عدالتوں کے دائرہ اختیار اور سرکاری اراضی سے متعلق صوبائی و مقامی حکومتوں کے صوابدیدی اختیارات کے استعمال سے متعلق امور پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ڈی جی آپریشنز نیب امجد مجید اولکھ نے خیبر پختونخوا میں سرکاری اراضی کی لیز سے متعلق نیب کے مطالعاتی جائزے کے نتائج پیش کئے۔ انہوں نے موجودہ نظام میں درپیش اہم مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے سرکاری اراضی کی لیز کے نظام میں شفافیت، ادارہ جاتی نگرانی اور سرکاری اراضی کے مؤثر انتظام کو بہتر بنانے کے لئے سفارشات پیش کیں۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر شاہ نے سرکاری اراضی کے حوالے سے لینڈ ریونیو حکام کی ذمہ داریوں سے متعلق اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر سیشن پیش کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے متعلقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے ریونیو حکام کو سرکاری اراضی کے قانونی انتظام، استعمال اور تصرف کے حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔سیشن کے بعد سوال و جواب کا تفصیلی مرحلہ ہوا جس میں لینڈ ریونیو انتظامیہ، سرکاری اراضی کے انتظام و تحفظ اور لیز سے متعلق قانونی، انتظامی اور عملی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے باہمی اشتراک پر مبنی اجلاس سرکاری اراضی کی بازیابی اور تحفظ کے نظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ورکشاپ سے حاصل ہونے والے اسباق اور سفارشات موجودہ قانونی و انتظامی خلاء کو دور کرنے کے لئے قانون سازی کے جائزے اور تشکیل میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔اختتامی کلمات میں چیئرمین نیب نے نیب اور خیبرپختونخوا کی سول انتظامیہ کے درمیان تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مربوط اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے سرکاری اراضی کے معاشی اور عوامی فوائد کو بروئے کار لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب خیبر پختونخوا کی انتظامیہ کے تعاون سے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے اور ان انتظامی و حکمرانی کی خامیوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے جو عوامی وسائل کے مؤثر اور قانونی انتظام میں رکاوٹ بنتی ہیں۔بریفنگ سیشن اس اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ اچھی حکمرانی اور انسدادِ بدعنوانی مؤثر ریاستی نظم و نسق کے باہم تکمیلی ستون ہیں اور نیب و صوبائی انتظامیہ کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعاون صوبائی ترقی اور وسیع تر عوامی مفاد کے لئے اضافی عوامی وسائل کو بروئے کار لانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔