وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے تاریخی مقامات خصوصاً مہرگڑھ کی مزید ترقی کےلئے اقدامات کئے جائیں گے اور آئندہ سال مہرگڑھ کو عالمی ورثے میں شامل کرانے کےلئے کوششیں کی جائیں گی۔
بلوچستان کی ترقی کےلئے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا ہوگا، وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 18 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے تاریخی مقامات خصوصاً مہرگڑھ کی مزید ترقی کےلئے اقدامات کئے جائیں گے اور آئندہ سال مہرگڑھ کو عالمی ورثے میں شامل کرانے کےلئے کوششیں کی جائیں گی۔ یہ بات انہوں نے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے زیر اہتمام بلوچستان سینٹر آف ایکسی لنس آن کائونٹرنگ وائیلنٹ ایکسٹریمزم کے تعاون سے سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ منعقدہ اعلیٰ سطحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں کا بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور تعمیر میں اہم کردار ہے، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا ہوگاجبکہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت آگے بڑھے گی۔
وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت نے کہا کہ انہیں دورہ کوئٹہ کے دوران مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے گفتگو کا موقع ملا ہے۔ صوبائی حکومت عوام کی بھرپور خدمت کررہی ہے اور اس نے بلوچستان کا مقدمہ بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت قومی ورثہ و ثقافت کے لئے پاکستان کی تمام اکائیوں کی ثقافت اور ورثہ اہمیت رکھتے ہیں۔ صوبائی حکومت مہرگڑھ کے تاریخی مقامات کو مزید ترقی دے، آئندہ سال مہرگڑھ کو عالمی ورثے میں شامل کرانے کےلئے جدوجہد کی جائے گی۔
بلوچستان کے تاریخی مقامات کے تحفظ اور فروغ کےلئے صوبائی محکمہ آرکائیوز کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے بلوچستان میں دانش سکولز کے قیام کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ صوبے میں 6 دانش سکولز کی تعمیر جاری ہے جبکہ مزید 4 سکولوں کے قیام کےلئے پی سی ون تیار کیا جارہا ہے جہاں معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزارت قومی ورثہ و ثقافت کا لوک ورثہ ایک بڑا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے بلوچستان سمیت ملک کی ثقافت کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں اور عوام کےلئے وزارت قومی ورثہ و ثقافت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ بلوچستان کے بغیر پاکستان مکمل نہیں اور پاکستان کے بغیر بلوچستان مکمل نہیں ہے۔
غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے دنیا کو پاکستان اور بلوچستان کا مثبت پیغام دینا چاہتے ہیں۔سیشن میں وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو، سیکرٹری سماجی بہبود عصمت اللہ قریش، سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ شیر شاہ غلزئی، پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بڑیچ، وزارت داخلہ کے معاون بابر خان یوسف زئی، وائس چانسلر جامعہ بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، عورت فائونڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر علاؤالدین خلجی سمیت دیگر نے شرکت کی۔








