محکمہ زراعت نے موسم سرما کی سبزیوں کی کچن گارڈننگ سے متعلق سفارشات جاری کردیں۔ اس حوالے سے ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ نے بتایا ہے کہ موسم سرما میں پھول گوبھی، بند گوبھی، آلو، پیاز، سلاد، مولی، شلجم، مٹر، گاجر، پالک، میتھی، دھنیا اور لہسن سمیت مختلف سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں جبکہ موسم گرما میں بھنڈی، کریلا، کھیرا، تربوز اور خربوزہ وغیرہ براہ راست زمین میں کاشت کیے جاتے …
سیالکوٹ،محکمہ زراعت کی موسم سرما کی سبزیوں کی کچن گارڈننگ سے متعلق سفارشات جاری

مزید خبریں
سیالکوٹ۔ 18 ستمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے موسم سرما کی سبزیوں کی کچن گارڈننگ سے متعلق سفارشات جاری کردیں۔ اس حوالے سے ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ نے بتایا ہے کہ موسم سرما میں پھول گوبھی، بند گوبھی، آلو، پیاز، سلاد، مولی، شلجم، مٹر، گاجر، پالک، میتھی، دھنیا اور لہسن سمیت مختلف سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں جبکہ موسم گرما میں بھنڈی، کریلا، کھیرا، تربوز اور خربوزہ وغیرہ براہ راست زمین میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ پھول گوبھی، بند گوبھی، بروکلی، پیاز اور سلاد ایسی سبزیاں ہیں جو موسم سرما میں عموماً پنیری کے ذریعے کاشت کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کچن گارڈننگ کے شوقین افراد کو ہدایت کی کہ سبزیوں کی کاشت کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں پودوں کو دن کے دوران کم از کم چھ گھنٹے براہ راست سورج کی روشنی میسر ہو۔ اگر صحن یا باغیچے میں کوئی ایسی جگہ موجود ہو جہاں زیادہ دیر تک سایہ رہتا ہو تو وہاں پتوں والی سبزیاں مثلاً دھنیا، پودینہ، پالک اور سلاد وغیرہ کاشت کی جا سکتی ہیں کیونکہ یہ نسبتاً کم دھوپ میں بھی بہتر طور پر اگ سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاشت سے قبل منتخب رقبے کی پیمائش کرلی جائے تاکہ ضرورت کے مطابق کھاد اور بیج کی مقدار کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔ بعض سبزیاں مثلاً دھنیا اور پودینہ کم رقبے میں بھی گھر کی ضروریات پوری کرسکتی ہیں جبکہ دیگر سبزیوں کی کاشت کے لیے نسبتاً زیادہ جگہ درکار ہوتی ہے۔
کاشت سے پہلے کاغذ پر کچن گارڈن کا ایک باقاعدہ خاکہ تیار کرکے اس میں کاشت کی جانے والی سبزیوں کے نام، قطاروں کی ترتیب، پودوں کے درمیان فاصلہ اور کھاد کی ضروری مقدار درج کرلی جائے تاکہ زمین کی تیاری اور بعد ازاں کاشت کے دوران مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ موسم سرما میں سبزیوں کی قطاروں کا رخ شمالاً جنوباً رکھنا مفید ہے تاکہ پودوں کو زیادہ سے زیادہ دھوپ میسر آسکے۔ اسی طرح سبزیوں کو پالتو جانوروں مثلاً مرغیوں اور خرگوش وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لیے کچن گارڈن کے گرد مناسب حفاظتی باڑ لگانے کا انتظام کیا جائے
انہوں نے بتایا کہ پرندوں خصوصاً طوطوں اور چڑیوں سے مٹر اور دیگر سبزیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کاشت شدہ رقبے میں چمکیلی پٹیاں باندھی جاسکتی ہیں جن کی حرکت اور چمک سے پرندے سبزیوں سے دور رہتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ دستیاب گھریلو جگہوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کچن گارڈننگ کو فروغ دیں تاکہ تازہ سبزیوں کی گھریلو سطح پر دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ صحت مند خوراک کے حصول میں بھی مدد مل سکے۔








