حکومت کا آئی ٹی تعلیم کے معیار میں بہتری، ایکریڈیٹیشن کے نظام کو مؤثر بنانے ،صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ افرادی قوت کے لئے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ سینیٹر احد چیمہ نے غیر منظور شدہ آئی ٹی تعلیمی اداروں کے مسئلہ کے حل ، طلبہ کو غیر تسلیم شدہ تعلیمی پروگراموں میں داخلوں سے محفوظ رکھنے اور آئی ٹی گریجویٹس کو بین الاقوامی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ایک جامع نظام وضع کرنے کی ہدایت کی ہے

اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ سینیٹر احد چیمہ نے غیر منظور شدہ آئی ٹی تعلیمی اداروں کے مسئلہ کے حل ، طلبہ کو غیر تسلیم شدہ تعلیمی پروگراموں میں داخلوں سے محفوظ رکھنے اور آئی ٹی گریجویٹس کو بین الاقوامی معیار کی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ایک جامع نظام وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت اقتصادی امور کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق آئی ٹی اسکلز اسیسمنٹ ٹیسٹ اور کمپیوٹنگ ایجوکیشن کے ایکریڈیٹیشن نظام کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ غیر منظور شدہ اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد معلوم کی جائے اور مسئلے کی نوعیت اور وسعت کا جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے مطلوبہ منظوری سے محروم اداروں اور تعلیمی پروگراموں میں داخلوں کی روک تھام کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ غیر منظور شدہ تعلیمی اداروں کی نشاندہی کے لیے مؤثر نظام تشکیل دیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ داخلے کے خواہش مند طلبہ کو جامعات، ان سے الحاق شدہ کالجوں اور انفرادی تعلیمی پروگراموں کی منظوری سے متعلق مستند معلومات پیشگی دستیاب ہوں۔آئی ٹی اسکلز اسیسمنٹ ٹیسٹ کا جائزہ لیتے ہوئے، جس میں 188 تعلیمی اداروں کے 33 ہزار سے زائد طلبہ نے شرکت کی، سینیٹر احد چیمہ نے اسیسمنٹ کے نظام کو بین الاقوامی معیارات اور ٹیکنالوجی کی صنعت کی بدلتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ اسیسمنٹ کے عمل کی ساکھ یقینی بنانے کے لیے مناسب جانچ پڑتال، معیار کی نگرانی اور ادارہ جاتی احتساب کا مؤثر نظام ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے شریک تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر جامع رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی، جس میں طلبہ کے مہارت جانچنے والے ٹیسٹ کے نتائج کا تجزیہ شامل ہو تاکہ ان اداروں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے تعلیمی قابلیت اور عملی مہارتوں کے درمیان پائے جانے والے تضادات کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں طلبہ ڈگری کی تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود اسکلز اسیسمنٹ ٹیسٹ میں ناکام ہو جاتے ہیں یا ڈگری مکمل کیے بغیر اسیسمنٹ میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسے معاملات میں تعلیمی معیارات، جانچ کے طریقۂ کار اور جامعات کے نصاب کی صنعتی ضروریات سے مطابقت کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔سینیٹر احد چیمہ نے تعلیمی اداروں اور آئی ٹی صنعت کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی تعلیم کو عملی اور قابلِ روزگار مہارتوں میں تبدیل کرنا اور گریجویٹس کے لیے بامعنی روزگار کے مواقع پیدا کرنا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن اور دیگر صنعتی شراکت داروں سے مشاورت کی جائے تاکہ مہارتوں کی جانچ، پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن اور تعلیمی پروگراموں کو آئی ٹی شعبے کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔اجلاس میں تعلیمی پروگراموں کے مختلف مراحل پر لازمی مہارت جانچنے کے ٹیسٹ متعارف کرانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ کسی حتمی فیصلے سے قبل اس تجویز کے طلبہ اور تعلیمی اداروں پر ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لیا جائے۔موجودہ ایکریڈیٹیشن نظام کا جائزہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیٹیشن کونسل (این سی ای اے سی)، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان روابط اور تعاون مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ صوبائی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے اور متعلقہ صوبائی سیکرٹریز تعلیم سے مشاورت کے ذریعے اداروں کی منظوری اور تعلیمی معیار کی نگرانی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی وضع کی جائے۔

مزید خبریں