ستمبر 1965 کی جنگ کے ایک فیصلہ کن باب میں چونڈہ کا میدان بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا۔جنگِ عظیم دوئم کے بعد معرکہ چونڈہ کو ٹینکوں کی بڑی ترین جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے
ستمبر 1965 کی جنگ کا ایک فیصلہ کن باب،چونڈہ کا میدان بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):ستمبر 1965 کی جنگ کے ایک فیصلہ کن باب میں چونڈہ کا میدان بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا۔جنگِ عظیم دوئم کے بعد معرکہ چونڈہ کو ٹینکوں کی بڑی ترین جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔تقریباً 600 سے زائد بھارتی ٹینک اور 2 ہزار سے زائد پیدل سپاہ نے چونڈہ پر قبضے کے ناکام ارادہ سے حملہ کیا۔پاکستانی آرٹلری کی زوردار گولہ باری نے دشمن کی صفوں میں شدید تباہی مچا دی۔پاکستانی ٹینک یونٹ کے بے باک ایڈوانس، آرٹلری کی تباہ کن بمباری اور پاکستانی انفنٹری کی ثابت قدمی کے آگے 3 بھارتی ڈویژن بے بس ہو گئے۔بھارتی فوج سینکڑوں ہلاک شدہ فوجیوں کو میدانِ جنگ میں چھوڑ کر فرار ہو گئی ۔اس معرکے میں تقریباً 800کے قریب بھارتی فوجی جہنم واصل جبکہ ایک ہزار سے زائد کو جنگی قیدی بنایا گیا۔
بھارتی فرسٹ آرمرڈ ڈویژن 180 ٹینکوں کو تباہ کروا کر بھی پاکستانی سپاہیوں کے آہنی عزم کو نہ توڑ سکا، بھارتی آرمرڈ ڈویژن عبرتناک شکست کے بعد بارڈر کی طرف پسپاہوکر واپس لوٹ گیا۔







