وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم کی فیول ریلیف سکیم میں تین بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد مستحقین، بالخصوص موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی استعمال کرنے والوں کو سہولت کی فراہمی ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ کا وزیراعظم فیول ریلیف سکیم میں تین تبدیلیوں کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔19ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم کی فیول ریلیف سکیم میں تین بڑی تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد مستحقین، بالخصوص موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی استعمال کرنے والوں کو سہولت کی فراہمی ہے۔ میڈیا بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ سکیم کے تحت اہلیت کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے اور اب اس میں یکم جنوری 2006 سے رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل 2011 کی حد مقرر تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پرانی موٹر سائیکلوں کی اہلیت کے حوالے سے شہریوں اور صحافیوں سے موصول ہونے والی آراء کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 500 روپے فی ٹوکن کی حد میں بھی ترمیم کر دی گئی ہے۔نظرثانی شدہ طریقہ کار کے تحت، فی ٹوکن پانچ لیٹر کی سابقہ حد ختم کر دی گئی ہے، جس سے اہل موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ مالکان اپنی ضرورت کے مطابق ایندھن خرید سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے اہل صارفین ماہانہ چار ٹوکن حاصل کر سکتے ہیں اور ہر ٹوکن پر 500 روپے کی ریلیف (رعایت) کی رقم شامل ہوگی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر دو لیٹر پیٹرول کی قیمت 780 روپے ہے، تو 500 روپے کا ریلیف ٹوکن استعمال کرنے کے بعد مستحق صارف کو 280 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تیسری بڑی تبدیلی اس سکیم کے تحت ایس ایم ایس چارجز کا مکمل خاتمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایس کی سہولت سب کے لیے مفت کر دی گئی ہے، چاہے ان کے پاس 800 سی سی کی گاڑی ہو یا دو یا تین پہیوں والی سواری ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس ریلیف سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا مسلسل ازالہ کیا جا سکے۔شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ہفتہ کی سہ پہر 3 بجے تک سکیم کے تحت 17 لاکھ 50 ہزار سے زائد رجسٹریشنز مکمل ہو چکی تھیں جبکہ تقریباً 15 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرول اسٹیشنوں پر 6 لاکھ 80 ہزار سے زائد ٹوکن پہلے ہی استعمال (ریڈیم) کیے جا چکے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت رجسٹریشن اور ٹوکن کے استعمال کے اعداد و شمار کی کڑی نگرانی کر رہی ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف خود اس سکیم کے نفاذ کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی سربراہی میں قائم سٹیئرنگ کمیٹی اور ایک عمل درآمد کمیٹی، نفاذ سے متعلقہ مسائل کے حل کے لیے متعلقہ وزارتوں، محکموں، اوگرا، سٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔شزہ فاطمہ نے بتایا کہ وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن میں شکایات موصول کرنے اور ان کے ازالے کے لیے 24 گھنٹے کام کرنے والا کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ دھوکے بازوں سے ہوشیار رہیں ۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے رجسٹریشن، ایس ایم ایس یا ٹوکن کے اجرا کے لیے کوئی فیس مقرر نہیں کی ہے۔انہوں نے کہاکسی کو بھی رجسٹریشن، ٹوکن یا سکیم سے متعلق معلومات کے لیے کسی کو ادائیگی نہیں کرنی چاہیے۔ وفاقی وزیر نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کی رجسٹریشن کی تفصیلات یا دیگر ذاتی معلومات غیر مجاز افراد کے ساتھ شیئر نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول سٹیشنوں پر یا رجسٹریشن کے دوران مشکلات کا سامنا کرنے والے مستحقین 9771 پر کال کر کے اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹوکن کی تصدیق کرنے والی ایپلی کیشن استعمال کرنے والے پیٹرول اسٹیشن آپریٹرز بھی اسی ہیلپ لائن کے ذریعے تکنیکی یا دیگر مسائل کی اطلاع دے سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ضلعی اور صوبائی انتظامیہ سکیم کے نفاذ میں تعاون کر رہی ہیں، جبکہ پیٹرول اسٹیشنوں پر رجسٹریشن کے عمل سے متعلق بینرز اور معلومات آویزاں کی گئی ہیں۔رجسٹریشن کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ درخواست دہندگان کو 9771 پر ایک ایس ایم ایس بھیجنا ہوگا جس میں ان کا شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، صوبے کا کوڈ اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ شامل ہو۔انہوں نے کہا کہ گاڑی کا رجسٹریشن نمبر بغیر کسی وقفے (اسپیس) کے درج کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ گاڑیوں کی غیر مجاز رجسٹریشن کو روکنے کے لیے اضافی تصدیقی اقدام کے طور پر رجسٹریشن کی تاریخ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ اگر صارف کے پاس گاڑی کی متعلقہ دستاویزات اور گاڑی کا قبضہ (استعمال کا اختیار) موجود ہو تو موٹر سائیکل، چنگ چی یا رکشے کی ملکیت ہونا لازمی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشے کے اہل صارفین ایندھن میں ریلیف کا ٹوکن حاصل کرنے کے لیے ہفتے میں ایک بار 9771 پر "TOK” بھیج سکتے ہیں، جبکہ کار کے اہل صارفین مقررہ شیڈول کے مطابق ٹوکن حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رجسٹریشن اور شکایت کے پورے عمل کو عام ایس ایم ایس پر رکھا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سمارٹ فون یا انٹرنیٹ کی سہولت نہ رکھنے والے افراد بھی اس اسکیم سے مستفید ہو سکیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی آراء کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور سکیم کو شہریوں کے لیے مزید آسان اور قابل رسائی بنانے کی خاطر جہاں ضروری ہوا، مزید بہتری لائے گی۔








