کیوبا میں ایندھن کی شدید قلت کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ،پورا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا

کیوبا میں ایندھن کی شدید قلت اور تیل کی سپلائی پر امریکی پابندیوں کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہو جانے سے پورا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا

ہوانا۔20ستمبر (اے پی پی):کیوبا میں ایندھن کی شدید قلت اور تیل کی سپلائی پر امریکی پابندیوں کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہو جانے سے پورا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا۔رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق کیوبا کو رواں سال کے آغاز سے اب تک چھٹی مرتبہ ملک گیر بلیک آئوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ کئی عشروں سے جاری امریکی پابندیوں کے نتیجے میں کیوبا کو اس وقت سے ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ۔ قبل ازیں وینزویلا امریکی پابندیوں کے باوجود کیوبا کو تیل برآمد کر رہا تھا تاہم جنوری میں صدر نکولس مادورو کے اغوا اور ملک پر امریکی کنٹرول کے بعد کیوبا کو وینرویلا سے تیل کی ترسیل روک دی گئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں کیوبا کو کسی بھی ملک کی طرف سے تیل کی ترسیل کو روکنے کے لیے کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے والے ممالک کے خلاف محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی۔امریکی صدر کئی بار کیوبا میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔کیوبا کی وزارت توانائی کے مطابق تازہ ترین بلیک آئوٹ ملک کے مغربی حصے میں ٹرانسمیشن لائن اور خراب موسم کی وجہ سے ہوا ۔مقامی حکام نے بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے پروٹوکول کو فوری طور پر فعال کر دیا ہے جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بتدریج بحال کی جارہی ہے۔کیوبا کا بجلی کا نظام پرانے تیل سے چلنے والے پاور پلانٹس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جن میں سے اکثر کئی دہائیوں سے کام کر رہے ہیں اور انہیں بار بار دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایندھن کی قلت اور سپیئر پارٹس حاصل کرنے میں مشکلات نے یونٹس کو مینول بنانے پر مجبور کر دیا ہے ۔کیوبا پر عائد پابندیوں کی وجہ سے بجلی، نقل و حمل، پانی کی فراہمی اور صحت کی سہولیات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے گزشتہ جون میں خبردار کیا تھاکہ کیوبا میں ڈاکٹروں کو ضروری طبی سامان اور ادویات تک رسائی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے وہاں بچے مر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا پر عائد کی جانے والی سخت پابندیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔