پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)اور ٹک ٹاک کے اشتراک سے نوجوانوں میں انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کو فروغ دینے کے لیے 100 سرکاری سکولوں میں طلبہ، اساتذہ اور والدین سمیت 12,575 افراد کو تربیت فراہم کی گئی ہے
100 سرکاری سکولوں میں 12,575 افراد کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کی تربیت

مزید خبریں
اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)اور ٹک ٹاک کے اشتراک سے نوجوانوں میں انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کو فروغ دینے کے لیے 100 سرکاری سکولوں میں طلبہ، اساتذہ اور والدین سمیت 12,575 افراد کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق پی ٹی اے نے نوجوانوں کے لیے انٹرنیٹ کو محفوظ بنانے کے مقصد سے ٹک ٹاک کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔اس اشتراک کے تحت 100 سرکاری سکولوں میں والدین، اساتذہ اور طلبہ کی تربیت مکمل کی جا چکی ہے جس سے مجموعی طور پر 12,575 افراد مستفید ہوئے۔تعلیمی اور آگاہی مواد بھی تیار کیا گیا ہے جس میں طلبہ کے لیے چلڈرنز ٹول کٹ، ڈیجیٹل حفاظت ورک بک اور کامک بک کے علاوہ والدین کے لیے رہنما اصول شامل ہیں، یہ مواد عوامی رسائی کے لیے پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر بھی فراہم کیا گیا ہے۔آگاہی مہم کے تحت آن لائن تحفظ کے اہم پہلوؤں پر پانچ مختصر ویڈیوز بھی تیار کرکے سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے نشر کی گئیں، ان میں آن لائن شکاریوں سے تحفظ، سائبر ہراسانی، ہیکنگ کے خطرات سے بچاؤ، نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات جیسے موضوعات شامل ہیں۔پی ٹی اے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف)کے اشتراک سے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ دستاویز کے مطابق اتھارٹی نے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے یونیسف کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔اس تعاون کے تحت بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق آگاہی پوسٹرز سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری کیے گئے تاکہ صارفین کو انٹرنیٹ کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جا سکے اور والدین کو بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے "ڈیجیٹل دور میں اپنے بچے کا تحفظ” کے عنوان سے ایک رہنما کتابچہ بھی یونیسف، ٹیلی نار اور نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، یہ کتابچہ بھی پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔بچوں سے بدسلوکی سے متعلق واقعات کی اطلاع دینے کے لیے ملک گیر مفت چائلڈ پروٹیکشن ہاٹ لائن 1121 بھی مختص کی گئی ہے جبکہ پاکستان یونیسف کے جاری ڈسرپٹنگ ہارم منصوبے میں بھی شریک ہے۔پی ٹی اے اور یونیسف کے اشتراک میں ملک گیر تربیت کاروں کی تربیت کا پروگرام بھی شامل ہے جس کا مقصد طلبہ، بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں اور اساتذہ کو آن لائن خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کرنا ہے۔دستاویز کے مطابق 15 ماسٹر ٹرینرز کو 210 سہولت کاروں کی تربیت کے لیے تیار کیا گیا جنہوں نے بعد ازاں آگاہی سرگرمیوں کے ذریعے 8,000 سے زائد افراد کو فائدہ پہنچایا۔ استعداد کار بڑھانے کے لیے شراکت دار اداروں اور پی ٹی اے افسران کے لیے بھی تربیتی نشستیں منعقد کی گئیں۔یہ اقدامات بچوں، والدین، اساتذہ اور نگہداشت کرنے والوں میں آن لائن خطرات سے متعلق آگاہی بڑھانے اور ڈیجیٹل ذرائع کے زیادہ محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔







