پنجاب میں پولٹری شعبے میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے خلاف اقدامات تیز

پنجاب میں پولٹری فارمز پر اینٹی بائیوٹکس کے ذمہ دارانہ استعمال اور حیاتیاتی تحفظ کے مؤثر طریقوں کو فروغ دینے کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں تاکہ جراثیم کی ادویات کے خلاف مزاحمت پر قابو اور پولٹری کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے

لاہور/اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):پنجاب میں پولٹری فارمز پر اینٹی بائیوٹکس کے ذمہ دارانہ استعمال اور حیاتیاتی تحفظ کے مؤثر طریقوں کو فروغ دینے کے لیے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں تاکہ جراثیم کی ادویات کے خلاف مزاحمت پر قابو اور پولٹری کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔پولٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (پی آر آئی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرحان افضل نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ پولٹری فارمرز میں اینٹی بائیوٹکس کے محتاط استعمال، فارم کی صفائی اور مؤثر حیاتیاتی تحفظ کے بارے میں آگاہی بڑھانا صحت مند اور پائیدار پولٹری پیداوار برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا پنجاب لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ صوبے میں صحت مند پولٹری پیداوار یقینی بنانے کے لیے آگاہی مہمات اور دیگر اقدامات میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے،پاکستان میں 15,000 سے زائد پولٹری فارمز میں سے تقریباً 70 فیصد پنجاب میں واقع ہیں جس کے باعث صوبے میں فارمنگ کے طریقوں میں بہتری ملک میں پولٹری گوشت اور انڈوں کی فراہمی کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ڈاکٹر فرحان نے کہا کہ پنجاب حکومت فلیمنگ فنڈ کے تحت سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہی ہے جو انسانوں اور جانوروں میں جراثیم کی ادویات کے خلاف مزاحمت سے نمٹنے کے لیے ایک بین الاقوامی اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس کا غلط اور ضرورت سے زیادہ استعمال بیکٹیریا میں ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتا ہے جس کے باعث جانوروں اور انسانوں دونوں کی صحت کے تحفظ کے لیے اینٹی بائیوٹکس کا ذمہ دارانہ استعمال انتہائی اہم ہے۔انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان کے پولٹری شعبے میں اس وقت کوئی ’’سپر بگ‘‘ پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سپر بگ کوئی سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ عام طور پر ایسے بیکٹیریا کے لیے استعمال ہوتی ہے جو متعدد اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں۔ڈاکٹر فرحان نے کہا کہ فارم کے بہتر انتظام، مؤثر حیاتیاتی تحفظ، درست تشخیص اور بروقت علاج سمیت اچھے پیداواری طریقوں کے ذریعے پولٹری فارمز پر بیماریوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا اس وقت پاکستان کے پولٹری شعبے خصوصاً پنجاب میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی کوئی بڑی بیماری موجود نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ای کولائی اور سالمونیلا جیسی عام بیکٹیریائی بیماریوں کو پولٹری کی پیداوار اور پولٹری مصنوعات کو سنبھالنے کے دوران صفائی کے بنیادی اصولوں پر عمل کرکے قابو کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی گھرانوں میں پولٹری کا گوشت عام طور پر مکمل طور پر پکا کر کھایا جاتا ہے جس سے نقصان دہ جراثیم کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔ڈاکٹر فرحان نے کہا کہ تشخیصی اور نگرانی کی صلاحیت کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ پی آر آئی راولپنڈی کی بیکٹیریالوجی لیبارٹری کو حال ہی میں پاکستان نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل (پی این اے سی)سے منظوری حاصل ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اہم منظوری معیار، تکنیکی صلاحیت اور تشخیصی خدمات میں بہترین بین الاقوامی معیار کے لیے لیبارٹری کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ڈاکٹر فرحان کے مطابق اس منظوری سے پرندوں کی بیماریوں کی تشخیص، جراثیم کی ادویات کے خلاف مزاحمت کی نگرانی اور پاکستان کے پولٹری شعبے کے لیے معیاری لیبارٹری خدمات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔دوسری جانب پولٹری فارمنگ سے وابستہ نمائندوں نے جراثیم کی ادویات کے خلاف مزاحمت پر قابو پانے کے اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے انسانوں، مویشیوں اور پولٹری میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے متعلق ایک جامع قومی حیاتیاتی تحفظ پالیسی بنانے پر زور دیا ہے۔پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن (پی پی اے) پنجاب کے سابق چیئرمین ڈاکٹر عبد الکریم بھٹی نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس تک غیر محدود رسائی بدستور ایک بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ہر قسم کی اینٹی بائیوٹکس کی بغیر نسخے فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پابندی پر سختی سے عمل درآمد اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کو کم کرنے اور انسانوں اور جانوروں، بشمول پولٹری، میں جراثیم کی ادویات کے خلاف مزاحمت پر قابو پانے میں مدد دے گا۔