جنیوا، جائیدادوں کی ضبطی پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے مداخلت کی اپیل

کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جائیدادوں کی غیر قانونی ضبطی کے معاملے پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفترمیں ہنگامی اپیل جمع کرائی ہے

جنیوا ۔21ستمبر (اے پی پی):کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جائیدادوں کی غیر قانونی ضبطی کے معاملے پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفترمیں ہنگامی اپیل جمع کرائی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کانوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے ۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کے حالیہ احکامات کا حوالہ دیاہے جس کے تحت پولیس اسٹیشن کپواڑہ میں درج ایک مقدمے کے سلسلے میں ‘غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت کپواڑہ میں کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کی جارہی ہیں ۔تقریبا 15کنال اراضی اور رہائشی عمارتوں پر مشتمل یہ جائیدادیں دوکشمیریوں عبدالمجید قریشی اور پرویز احمد قریشی کی ملکیت ہیں،جنہیں عسکریت پسندی سے بنائے گئے اثاثہ جات قرار دیا گیا ہے۔

الطاف وانی نے کہاہے کہ یہ ظالمانہ اقدامات مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جاری جبر و استبداد کاواضح ثبوت ہیں ۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ عبدالمجید قریشی ایک مہاجر ہیں جو 1990کی دہائی کے آخر میں آزاد جموں و کشمیرہجرت کر گئے تھے۔ انہوں نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں اپنے بھائی مصطفی قریشی کی شہادت اوربعدازاں پولیس اسٹیشنوں اور فوجی کیمپوں میں بار بار طلبی، ہراسانی اور دھمکیوں کے بعد آزاد کشمیر ہجرت کی ۔وہ متعددعارضوں میں مبتلا ہیں اوارانکا کسی بھی عسکریت پسند تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ شہید مصطفی قریشی کے بیٹے پرویز احمد قریشی کو والد کی وفات کے بعد حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ 2018میں درست پاسپورٹ اور ویزے پر آزاد جموں و کشمیر ہجرت کرگئے تھے۔ اپیل میں مہاجرین اور ریاستی تشدد کا شکار کشمیریوں کی جائیدادوں کی کالے قانون یو اے پی اے کے تحت جبری ضبطی پرسخت تشویش کا اظہار کیاگیاہے۔

الطاف وانی نے ہائی کمشنر سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کی جائیدادوں کی جبری ضبطی کے قانونی پہلوئوں کی تحقیقات کریں ،بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیں او ر آزادانہ جائزے تک اس عمل کو معطل کرنے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں ۔الطاف حسین وانی نے کہاکہ مسلسل جبر وتشدد سے بچ کر آزادکشمیر ہجرت کرنے والے کشمیریوں کے گھروں اورجدائیدوں کی ضبطی ایک سنگین ناانصافی ہے۔

 

مزید خبریں