بلوچستان کی وسیع و عریض ساحلی پٹی میں مستقبل کی ایک بڑی معاشی و تجارتی صلاحیت موجود ہے،جعفرخان مندوخیل
بلوچستان کی وسیع و عریض ساحلی پٹی میں مستقبل کی ایک بڑی معاشی و تجارتی صلاحیت موجود ہے،جعفرخان مندوخیل

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 21 ستمبر (اے پی پی):گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ ہماری اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے طلبہ یہ محسوس کریں گے کہ ان کی صلاحیت، ان کا علم اور ان کا مستقبل اسی سرزمین پر قدر و منزلت رکھتا ہے، ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ہمارے نوجوان نہ صرف اپنے مستقبل کو بہتر بنائیں بلکہ ملک و قوم کے مستقبل کی تعمیر میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں گورنر ہاؤس کوئٹہ میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رزاق صابر اور تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ وائس چانسلر محض کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے کا سربراہ ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ نوجوان نسل کے مستقبل، جدید ریسرچ کے فروغ اور معاشرے کی فکری سمت کے تعین میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے، ہماری مشترکہ کاوشوں سے تمام سرکاری یونیورسٹیوں کو معیار اور مقدار کے اعتبار سے بلند تر مقام تک پہنچانے میں ہم کامیاب ہوئے ہیں جو سب کیلئے باعث فخر و مسرت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی وسیع و عریض ساحلی پٹی میں مستقبل کی ایک بڑی معاشی و تجارتی صلاحیت موجود ہے، گوادر اور تربت صرف جغرافیائی اہمیت نہیں رکھتے بلکہ بلیو اکانومی، میری ٹائم ٹریڈ، ماہی گیری، کوسٹل مینجمنٹ اور سمندری وسائل کے حوالے سے بھی غیر معمولی امکانات رکھتے ہیں۔
اس روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے گوادر یونیورسٹی اور تربت یونیورسٹی دونوں کے کندھوں پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ اپنے تعلیمی پروگرامز اور تحقیقی ترجیحات کو اپنی مقامی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ کریں اور یونیورسٹی طلبا و طالبات کو بلیو اکانومی، کوسٹل بیلٹ مینجمنٹ، میرین سائنسز اور فشریز کی تجارت سمیت جدید شعبوں کیلئے تیار کریں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ آج کی دنیا میں قدرتی وسائل سے زیادہ اہم انسانی وسائل ہیں، اگر ہمارے نوجوان معیاری تعلیم، ڈیجٹل ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں سے لیس ہوں تو بلوچستان کے وسائل بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے روزگار، کاروبار اور خوشحالی کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔








