تعلیمی اسناد نوجوانوں کے لئے بامعنی معاشی مواقع میں تبدیل ہونی چاہئیں، سید یوسف رضا گیلانی

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ہنرمندی، جدت، ٹیکنالوجی اور روزگار کے قابل بنانے والی تعلیم پر مزید توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اسناد نوجوانوں کے لئے بامعنی معاشی مواقع میں تبدیل ہونی چاہئیں۔

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ہنرمندی، جدت، ٹیکنالوجی اور روزگار کے قابل بنانے والی تعلیم پر مزید توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اسناد نوجوانوں کے لئے بامعنی معاشی مواقع میں تبدیل ہونی چاہئیں۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق پاکستان چائنا فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں بیکن ہاؤس انٹرنیشنل کالج کی کانووکیشن تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کے فروغ پاتے ہوئے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو اب اس اہم چیلنج کا سامنا ہے کہ نوجوان گریجویٹس کو تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت اور عالمی ملازمتوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ضروری علمی، عملی اور پیشہ وارانہ مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈگری مستقبل کی بنیاد ہے، منزل نہیں۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ مسلسل سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں، ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کریں اور بڑھتی ہوئی مسابقتی دنیا میں کامیابی کے لئے عملی و پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو فروغ دیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور عالمی رابطوں میں تیز رفتار پیشرفت نے کام کی نوعیت اور مستقبل کے روزگار کے تقاضوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنے نوجوانوں کو صرف روزگار کے حصول کے لئے نہیں بلکہ کاروباری افراد، جدت کار، محققین اور نئے مواقع پیدا کرنے والے تخلیق کار بننے کے لئے بھی تیار کرنا ہوگا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جو ملک کے لئے ایک بڑا قومی اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کے لئے معیاری تعلیم، ہنرمندی کے فروغ، تحقیق، کاروباری سرگرمیوں اور جدت کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔انہوں نے معیاری تعلیم تک رسائی کو وسیع کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ نوجوانوں کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع ان کے سماجی و معاشی پس منظر سے قطع نظر میسر ہونے چاہئیں۔

اس ضمن میں انہوں نے معاشرے کے کم سہولت یافتہ طبقات تک تعلیمی مواقع پہنچانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا۔چیئرمین سینیٹ نے فارغ التحصیل طلبہ، ان کے والدین اور اہلِخانہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی ان کی زندگی کے ایک نئے مرحلے، نئی ذمہ داریوں اور نئے مواقع کا آغاز ہے۔ انہوں نے گریجویٹس پر زور دیا کہ وہ پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ دیانتداری اور سماجی ذمہ داری کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنی علمی صلاحیتوں اور بین الاقوامی تجربات کو پاکستان کی ترقی کے لئے بروئے کار لائیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم اور پیشہ وارانہ شعبوں میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی گریجویٹس پاکستان اور عالمی برادری کے درمیان روابط کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور تعاون، سرمایہ کاری، علمی و فنی تبادلے اور جدت کے لئے نئے راستے ہموار کر سکتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے گریجویٹس کو ایک بار پھر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنے تعلیمی سفر کو اعتماد، مقصدیت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھائیں گے اور معاشرے اور ملک کی ترقی میں بامعنی کردار ادا کریں گے۔