ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی 2030-2026 کے نفاذ حوالے علاقائی مشاورتی ورکشاپ سیدو شریف سوات میں منعقد ہوئی، جس میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی
ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی کے نفاذ حوالے علاقائی مشاورتی ورکشاپ کاانعقاد
پشاور۔ 22 ستمبر (اے پی پی):ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی 2030-2026 کے نفاذ حوالے علاقائی مشاورتی ورکشاپ سیدو شریف سوات میں منعقد ہوئی، جس میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔
ورکشاپ میں لیڈ کنسلٹنٹ فلک ناز سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز سمیت مختلف محکموں کے افسران اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد قدرتی آفات میں کمی، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور عوامی تحفظ کے لیے علاقائی اور ضلعی سطح کی ترجیحات، عملی اقدامات، اداروں کی ذمہ داریوں، باہمی رابطہ کاری اور وسائل کی ضروریات کا تعین کرنا تھا تاکہ انہیں صوبائی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی کے پانچ سالہ نفاذی منصوبے میں شامل کیا جاسکے۔ اس موقع پر شرکاء نے اپنے اپنے اضلاع کے حوالے سے قدرتی آفات کے ممکنہ خطرات، موجودہ انتظامات، درپیش مسائل اور ترجیحی ضروریات پر تفصیلی غور و خوض کیا اور آفات سے قبل مؤثر تیاری، بروقت رسپانس اور نقصانات میں کمی کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔
کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنانے، اداروں کے درمیان مربوط رابطہ کاری اور ضلعی سطح پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کی استعداد کار بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی، مربوط حکمت عملی اور تمام متعلقہ اداروں کی مؤثر شمولیت انتہائی ضروری ہے۔ورکشاپ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع کی جغرافیائی اور موسمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی سطح پر مخصوص ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اقدامات کو پالیسی کے نفاذی منصوبے کا حصہ بنایا جائے۔








