گلگت بلتستان میں 17.2 ارب روپے کے رورل ڈویلپمنٹ، کلائمیٹ ریزیلینس منصوبے کا معاہدہ طے

حکومت گلگت بلتستان، یورپی یونین، فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی (اے ایف ڈی) اور آغا خان فاؤنڈیشن کے درمیان گلگت بلتستان میں رورل ڈویلپمنٹ اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس منصوبے کے حوالے سے معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیئے گئے

گلگت۔ 22 ستمبر (اے پی پی):حکومت گلگت بلتستان، یورپی یونین، فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی (اے ایف ڈی) اور آغا خان فاؤنڈیشن کے درمیان گلگت بلتستان میں رورل ڈویلپمنٹ اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس منصوبے کے حوالے سے معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیئے گئے۔ اس حوالہ سے منگل کو منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے اے ایف ڈی ، یورپی یونین اور آغا خان فاؤنڈیشن کے وفود کو گلگت آمد پر خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ خطے کی پائیدار ترقی، خوشحالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے تحفظ کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کا مقصد محض فنڈز کا استعمال یا ترقیاتی سکیموں کی تکمیل نہیں بلکہ عوام کو حقیقی معنوں میں بنیادی سہولیات اور معاشی فوائد فراہم کرنا ہے، منصوبے کے ذریعے دور دراز علاقوں کو بجلی، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ منصوبوں کی نشاندہی، دیکھ بھال اور تکمیل کے بعد بنیادی ڈھانچے کے انتظام میں مقامی آبادی کو شامل رکھا جائے گا جبکہ خواتین، خصوصی افراد اور پسماندہ طبقات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سولرائزیشن، سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور ریجنل گرڈ کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے۔ اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر ریمنڈاس کاروبلیس نے کہا کہ یورپی یونین گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ رورل ڈویلپمنٹ اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس منصوبے کا آغاز اور انرجی ماسٹر پلان کی فراہمی خطے کی پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور اس کے شراکت دار منصوبے پر مؤثر عملدرآمد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ تقریب میں یورپی یونین کے سفیر ریمنڈاس کاروبلیس، کونسل آف یورپی یونین کے نمائندہ یرون ولیم جان ماریا، فرسٹ سیکریٹری الیگزینڈرو، صوبائی وزیر بلدیات ذوالفقار علی مراد، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، سیکریٹری برقیات، اے ایف ڈی کے کنٹری ڈائریکٹر مارک اینٹونی، ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر جیکس یاکان، اے کے ایف پی کے سی ای او اختر اقبال، اے کے آر ایس پی کے جنرل منیجر جمیل الدین اور اے کے ایف پی کے پروگرام ایڈوائزر ارشاد خان عباسی سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ 17.2 ارب روپے (54.24 ملین یورو) مالیت کے اس منصوبے کے تحت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، قدرتی آفات سے تحفظ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کئے جائیں گے، منصوبے کی مالی معاونت فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی، یورپی یونین کی گرانٹ، آغا خان فاؤنڈیشن اور مقامی کمیونٹی کے تعاون سے کی جائے گی، منصوبے کے تحت تقریباً 43,200 گھرانے مستفید ہوں گے جن میں کم از کم 40 فیصد خواتین شامل ہوں گی، مقامی آبادی کی تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر اقدامات کئے جائیں گے، منصوبے کے تحت 216 واٹر سپلائی سکیموں کے ذریعے صاف پینے کے پانی کی فراہمی، مائیکرو ہائیڈل اور سولر سسٹمز کے ذریعے متبادل توانائی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی جن کی متوقع مجموعی پیداواری صلاحیت 1200 سے 1300 کلوواٹ ہوگی

تمام 110 یونین کونسلوں میں قدرتی آفات کے خطرات اور ماحولیاتی حساسیت کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ 3 ہزار گھروں کو گرین ریٹروفٹنگ کے ذریعے ماحولیاتی طور پر پائیدار بنایا جائے گا اور 700 نئے مکانات موسمیاتی لحاظ سے محفوظ اور توانائی کی بچت کے اصولوں کے مطابق تعمیر کئے جائیں گے، منصوبے کے تحت صاف پانی، صفائی ستھرائی، زلزلہ مزاحم اور توانائی بچانے والے مکانات، کمیونٹی سطح پر مائیکرو ہائیڈل منصوبوں، مقامی اداروں کی استعداد کار میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اس موقع پر نارتھ پاکستان انرجی لمیٹڈ نے گلگت بلتستان انرجی ماسٹر پلان کے اہم نکات پر بریفنگ دی۔ یورپی یونین کے تعاون سے جاری 31 ملین یورو کے انرجی پلس منصوبے کے تحت تیار کردہ روڈ میپ کا مقصد گلگت بلتستان کو موسمیاتی لحاظ سے مضبوط اور پائیدار توانائی کے نظام کی طرف منتقل کرنا ہے۔