اقوام متحدہ کے انسانی امور کے اداروں نے سوڈان میں بڑھتے ہوئے تشدد، بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے اور غذائی عدم تحفظ کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔شنہوا کےمطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) نے کہا ہے کہ مشرقی اور جنوبی دارفور میں حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوئے، مارکیٹوں کی سرگرمیاں متاثر …
سوڈان میں بڑھتے تشدد اور غذائی بحران پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔23ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی امور کے اداروں نے سوڈان میں بڑھتے ہوئے تشدد، بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے اور غذائی عدم تحفظ کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔شنہوا کےمطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) نے کہا ہے کہ مشرقی اور جنوبی دارفور میں حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوئے، مارکیٹوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور مزید افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ شمالی دارفور میں روٹی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اوسی ایچ اے نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مشرقی دارفور کے شہر الضعین میں البورصہ مارکیٹ میں ہفتہ کو ہونے والی جھڑپوں میں جانی نقصان ہوا اور مارکیٹ جزوی طور پر بند ہوگئی۔ اسی روز جنوبی دارفور کے گریدا میں ابو جا مارکیٹ میں قبائلی جھڑپوں کے دوران 13 افراد ہلاک اور 400 سے زائد بے گھر ہوئے۔ جنوبی دارفور کے شہر نیالا میں بھی جھڑپوں کے نتیجے میں مزید ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔اوسی ایچ اےکے مطابق شمالی و جنوبی کردفان، بلیو نائل اور شمالی دارفور میں جاری لڑائی کے باعث گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کئی ہزار افراد نئے سرے سے بے گھر ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے بتایا کہ شمالی کردفان کے شیکان علاقے میں اتوار کو ڈرون حملوں سے دو گودام تباہ ہوگئے، جہاں تعلیمی سال کے آغاز پر تقسیم کے لیے تعلیمی سامان رکھا گیا تھا۔ الابیض میں بھی اتوار اور پیر کے دوران ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔اوسی ایچ اےنے کہا کہ سوڈان میں غذائی عدم تحفظ مزید گہرا ہورہا ہے۔ شمالی دارفور کے علاقے تاویلا میں مقامی مارکیٹوں میں مسلسل چار روز سے روٹی دستیاب نہیں، جبکہ روٹی کی قیمتوں میں اضافے پر کشیدگی کے باعث جمعہ کو کئی بیکریاں بند ہوگئی تھیں۔
عالمی خوراک پروگرام کے مطابق بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ملک گیر اضافے کے باعث مقامی غذائی ٹوکری کی لاگت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 13 فیصد بڑھ گئی ہے۔اوسی ایچ اےنے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنائیں اور ضرورت مند افراد تک انسانی امداد تیزی، محفوظ طریقے سے اور بلا رکاوٹ پہنچانے کی اجازت دیں۔








