وزیراعظم شہباز شریف کی بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین سے ملاقات، برادرانہ تعلقات کو وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، قریبی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے ان تعلقات کو تجارت اور اقتصادی تعاون پر مبنی مضبوط اور وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر …

نیویارک۔23ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، قریبی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے ان تعلقات کو تجارت اور اقتصادی تعاون پر مبنی مضبوط اور وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ سے ملاقات کی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، جن میں سیاسی، اقتصادی، دفاعی تعاون، ہنرمند افرادی قوت کا تبادلہ ، تعلیم اور ثقافت کے شعبے شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔وزیراعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، قریبی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے ان تعلقات کو تجارت اور اقتصادی تعاون پر مبنی مضبوط اور وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے بوسنیا و ہرزیگووینا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ علاقائی استحکام ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال بوسنیا و ہرزیگووینا سے وابستہ ہے۔بوسنیا و ہرزیگووینا کے یورپی یونین میں شمولیت کے مذاکرات کے باضابطہ آغاز پر ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ کو مبارک باد دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بوسنیا و ہرزیگووینا کو یورپی اور مغربی بلقان کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کے لیے خطے میں تجارت اور علاقائی روابط کے ممکنہ مرکز کے طور پر دیکھتا ہے۔

ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں کشیدگی میں کمی اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا۔ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے اقدام کی غیر قانونی حیثیت سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی بھی مکمل حمایت کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے باہمی رابطے میں رہنے اور مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ اس ضمن میں آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دوروں کے تبادلے کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

 

مزید خبریں