جامعہ گوادر کے شعبہ معاشیات کے بورڈ آف اسٹڈیز کا دوسرا اجلاس پی سی ٹی وی آئی کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا جس میں بی ایس اکنامکس پروگرام سے متعلق اہم تعلیمی امور اور مجوزہ نصابی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا
جامعہ گوادر کے شعبہ معاشیات کے بورڈ آف اسٹڈیز کا دوسرا اجلاس

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 23 ستمبر (اے پی پی):جامعہ گوادر کے شعبہ معاشیات کے بورڈ آف اسٹڈیز کا دوسرا اجلاس پی سی ٹی وی آئی کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا جس میں بی ایس اکنامکس پروگرام سے متعلق اہم تعلیمی امور اور مجوزہ نصابی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت جامعہ گوادر کے ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر جان محمد نے کی۔
شعبہ معاشیات کی چیئرپرسن محترمہ شمع سلیمان نے مختلف تعلیمی امور پر ہونے والی گفتگو کی قیادت کی۔اجلاس میں بی ایس معاشیات پروگرام کے طلبہ کے لیے پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن کو لازمی قرار دینے کی تجویز غور کیا گیا۔ بورڈ نے بی ایس معاشیات پروگرام میں بین الشعبہ جاتی کورس AI for Everyone متعارف کرانے پر بھی غور کیا، جو معاشیات اور دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مہارتوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تجویز کیا گیا۔بورڈ نے جامعہ گوادر کے بی ایس معاشیات پروگرام میں بلیو اکانومی کو ایک اہم کورس کے طور پر متعارف کرانے اور منظور کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
شرکا کے مطابق گوادر کی معاشی اہمیت اور ساحلی و بحری ترقی کے تناظر میں اس کورس کی خصوصی اہمیت ہے۔بورڈ نے بی ایس معاشیات پروگرام سے متعلق دیگر تعلیمی اور نصابی امور کا بھی جائزہ لیا اور نصاب کو عصرِ حاضر کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مزید اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں جامعہ گوادر کے شعبہ معاشیات کے فیکلٹی ممبر سلیمان صمد، جامعہ گوادر کے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر رابعہ اسلم، اور شعبہ کمپیوٹر سائنس کے فیکلٹی ممبر اکرام بلوچ نے شرکت کی۔ بیرونی اراکین میں یونیورسٹی آف تربت کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم اور لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر و رجسٹرار ڈاکٹر بالاچ رشید شامل تھے
جنہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے بورڈ کے اراکین نے نصاب کی مسلسل ترقی، جدید شعبوں کے انضمام، پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن، بین الشعبہ جاتی تعلیم اور علاقائی اہمیت کے حامل مضامین کو نصاب کا حصہ بنانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اقتصادیات کے طلبہ کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ استعداد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔








