شام کے صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ گولان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ شامی سرزمین ہے اور ان علاقوں یا ان کی ملکیت کے بارے میں بحث کی کوئی گنجائش نہیں ۔
امریکا گولان کے بجائے نیو جرسی اسرائیلیوں کو کیوں نہیں د یتا،شامی صدر

مزید خبریں
نیویارک ۔24ستمبر (اے پی پی):شام کے صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ گولان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ شامی سرزمین ہے اور ان علاقوں یا ان کی ملکیت کے بارے میں بحث کی کوئی گنجائش نہیں ۔ العربیہ اردو کے مطابق شامی صدر نے گولان کے معاملے پر امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی ایک مزاحیہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ گولان امریکا میں نہیں ہے کہ آپ اس پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کریں ، آپ گولان کے بجائے نیو جرسی اسرائیلیوں کو کیوں نہیں دے دیتے۔
نیویارک میں اٹلانٹک کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب میں شامی صدر نے کہا کہ اسرائیلی فریق نے سابقہ نظام کے خاتمے کے بعد سے شامی سرزمین پر متعدد حملے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام نے سفارتی راستہ اختیار کیا اور دوست ممالک کی مدد سے مذاکرات کا راستہ اپنایا۔ شامی صدر کہا کہ گولان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ شامی سرزمین ہے اور ان علاقوں یا ان کی ملکیت کے بارے میں بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔ واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں سابق شامی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل نے 1974 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی ہے۔
اسرائیلی فورسز نے جنوبی شام میں متعدد بار دراندازی کی، شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور انہیں گرفتار کیا، زمینوں کو ہموار کیا اور گولہ باری سمیت دیگر حملے کیے۔دوسری جانب شامی حکومت نے جنگ بندی معاہدے پر قائم رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی فریق کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ ایک سکیورٹی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ادھر واشنگٹن ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیل اور شام کے درمیان اس سکیورٹی معاہدے کے لیے کوششیں کر رہا ہے تاہم اب تک یہ معاہدہ طے نہیں پا سکا۔








