انگلینڈ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے مردوں کے فٹبال میچز کے دوران شائقین کو سٹیڈیم کے سٹینڈز میں شراب پینے کی اجازت نہ ہونے کو ’’امتیازی سلوک‘‘ قرار دیتے ہوئے قانون میں ممکنہ تبدیلی کی حمایت کردی۔ بی بی سی کے مطابق اینڈی برنہم نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ فٹبال شائقین کو اس معاملے میں دوسرے کھیلوں کے تماشائیوں سے مختلف سمجھا جانا منصفانہ ہے۔ ان کے …
برطانوی وزیر اعظم کی مردوں کے فٹ بال میچز کے دوران سٹینڈز میں شراب پر پابندی ختم کرنے کی حمایت

مزید خبریں
لندن۔24ستمبر (اے پی پی):انگلینڈ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے مردوں کے فٹبال میچز کے دوران شائقین کو سٹیڈیم کے سٹینڈز میں شراب پینے کی اجازت نہ ہونے کو ’’امتیازی سلوک‘‘ قرار دیتے ہوئے قانون میں ممکنہ تبدیلی کی حمایت کردی۔ بی بی سی کے مطابق اینڈی برنہم نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ فٹبال شائقین کو اس معاملے میں دوسرے کھیلوں کے تماشائیوں سے مختلف سمجھا جانا منصفانہ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ قانون ایسے دور میں بنایا گیا تھا جب فٹبال کا ماحول آج سے بہت مختلف تھا اور اس میں تبدیلی کا تجربہ کیا جاسکتا ہے۔
انگلینڈ کے فٹبال کے ٹاپ 5 درجات میں سٹیڈیم کے ایسے حصے میں شراب پینے پر پابندی ہے جہاں سے میدان براہ راست نظر آتا ہو، تاہم دیگر کھیلوں جن میں رگبی لیگ بھی شامل ہے، میں شائقین کو اپنی نشستوں پر شراب پینے کی اجازت ہے۔ یہ قانون 1985میں مارگریٹ تھیچر کی حکومت نے انگلینڈ اور ویلز کے فٹبال گراؤنڈز کے لیے نافذ کیا تھا۔ اس وقت کے وزیر داخلہ لیون برٹن نے فٹبال گراؤنڈز میں تشدد اور بدنظمی میں شراب کو ایک اہم عنصر قرار دیا تھا۔ فٹبال سپورٹرز ایسوسی ایشن نے قانون کو پرانا قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کے چیئرمین ٹام گریٹریکس نے کہا کہ فٹبال شائقین کو میچ دیکھتے ہوئے ایک مشروب پینے پر مجرم قرار دینا غیر منصفانہ ہے خصوصاً اس وقت جب انہی نشستوں پر دیگر کھیلوں یا موسیقی کی تقریبات کے دوران شراب پینے کی اجازت ہوتی ہے۔ دوسری جانب برطانیہ کے فٹبال پولیسنگ یونٹ نے قانون میں نرمی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فٹبال شائقین میں تشدد اور مجرمانہ رویے کا مسئلہ دیگر کھیلوں کے مقابلے میں زیادہ ہے اور بعض واقعات میں شراب اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پولیس حکام نے کہا کہ قانون میں بنیادی تبدیلی سے قبل شواہد کا مکمل جائزہ اور پولیس ماہرین سے بامعنی مشاورت ضروری ہے۔
ان کے مطابق بغیر مکمل جائزے کے ایسی تبدیلی کرنا انتہائی عجلت پر مبنی اقدام ہوگا۔ حکومت کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اینڈی برنہم نے اپنی طویل عرصے سے موجود ذاتی رائے کا اعادہ کیا ہے اور ان کے بیان کو قانون میں فوری تبدیلی کا اعلان نہیں سمجھا جارہا، تاہم ممکنہ آزمائشی منصوبے کے امکان کو مسترد بھی نہیں کیا گیا۔ خواتین کی سپر لیگ میں 2 کامیاب سیزنز کے تجربات کے بعد رواں سیزن تمام کلبوں کو سٹینڈز میں شائقین کو شراب فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ 2021ء میں فٹبال نظام سے متعلق شائقین کی ایک جائزہ رپورٹ میں بھی موجودہ قانون پر نظرثانی کی سفارش کی گئی تھی۔








