وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف جیسی علمی، ادبی اور صاحبِ مطالعہ شخصیت کے ساتھ بیٹھنا ان کے لیے خوش قسمتی کا باعث ہے، انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن کی حیثیت سے ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے قابل قدر اقدامات کیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی ریٹائرڈ ہونے …
ڈاکٹر نجیبہ عارف جیسی علمی، ادبی اور صاحبِ مطالعہ شخصیت کے ساتھ بیٹھنا ان کے لیے خوش قسمتی کا باعث ہے، وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف جیسی علمی، ادبی اور صاحبِ مطالعہ شخصیت کے ساتھ بیٹھنا ان کے لیے خوش قسمتی کا باعث ہے، انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن کی حیثیت سے ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے قابل قدر اقدامات کیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی ریٹائرڈ ہونے والی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت نے اکادمی ادبیات پاکستان کے ہر اہم پروگرام میں شرکت کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے سابق وفاقی وزیر عرفان صدیقی کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم کاوشیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے پیش روؤں کے اقدامات کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ نئے اقدامات کے ذریعے ادارے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں میں تسلسل، سابقہ سربراہان کی اچھی کاوشوں کا اعتراف اور ان اقدامات کو آگے بڑھانا اداروں کی مضبوطی اور ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مستقبل میں بھی ڈاکٹر نجیبہ عارف کی علمی و ادبی رہنمائی سے استفادہ کرتے رہیں گے۔سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے پیش رو چیئرپرسنز کی کارکردگی اور کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ان کے شروع کیے گئے منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے انتہائی دیانت داری اور لگن سے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور ان میں قائدانہ صلاحیتیں نمایاں ہیں۔ سیکرٹری نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کے شروع کردہ پروگرام ”چائے، باتیں اور کتابیں“ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی پذیرائی ملک کے دور دراز علاقوں تک ہوئی اور اسے کوئٹہ میں بھی شروع کرنے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بھی ڈاکٹر نجیبہ عارف کے مشوروں اور رہنمائی کی ضرورت رہے گی تاکہ اکادمی ادبیات پاکستان جیسے اہم قومی ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ وہ ایک اچھے ماحول اور خوشگوار انداز میں اپنے عہدے سے رخصت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی قیادت ہمیشہ ایک سے بڑھ کر ایک قابل افراد نے کی ہے اور آئندہ بھی بہتر سربراہان آتے رہیں گے جو ادارے کو مزید آگے لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی بساط کے مطابق ادارے کو بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کی اور بالخصوص یہ کوشش کی کہ اپنی عملی کارکردگی کے ذریعے دیگر خواتین کے لیے مثال قائم کی جا سکے تاکہ خواتین بھی انتظامی عہدوں پر مؤثر انداز میں خدمات انجام دے سکیں۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ محدود بجٹ کے باوجود اکادمی میں متعدد کام کیے گئے اور بجٹ کو انتہائی دیانت داری سے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ نئے ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی اور انہیں مواقع فراہم کرنے کے لیے نئے اقدامات شروع کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دورِ ذمہ داری کے دوران انہیں بلوچستان کے ادیبوں، شاعروں اور عوام میں ملک سے محبت کا جذبہ نمایاں نظر آیا، اس لیے ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سکردو میں پہلی مرتبہ ادبی کانفرنس کے انعقاد کا بھی ذکر کیا۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی اور سیکرٹری اسد رحمان گیلانی کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور مشاورت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس تعاون سے وزارت اور اس کے ماتحت اداروں کی کارکردگی کو مؤثر بنانے میں مدد ملی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) ایوب جمالی نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ہمیشہ تعاون کیا اور اداروں کے درمیان مثبت روابط کو فروغ دیا۔ سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر (DOAM) امان اللہ نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اکادمی ادبیات پاکستان کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بھرپور محنت کی۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ ڈاکٹر وقاص سلیم نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ان کے شائستہ اور مؤثر اندازِ گفتگو کو سراہا۔
ڈائریکٹر جنرل نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ (NLPD) ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف ایک ممتاز شاعرہ اور ادیب ہیں جنہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ کے موضوع پر بھی قابل ذکر علمی و تحقیقی کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف اکادمی ادبیات پاکستان کی پہلی خاتون چیئرپرسن ہیں، جو موجودہ حکومت کا ایک خوش آئند اقدام تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر نجیبہ عارف کو علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے لیے مزید وقت میسر آئے گا۔جوائنٹ سیکرٹری سیدہ تنزیلہ اور سمرین زہرہ نے بھی ڈاکٹر نجیبہ عارف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کے تحت کام کرنے کا موقع ملا۔
اکادمی ادبیات پاکستان کے ساتھ کام کرنے والے دیگر ادیبوں اور افسران نے بھی ڈاکٹر نجیبہ عارف کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں ادارے کے امور تسلسل کے ساتھ جاری رہے اور کوئی اہم کام تعطل کا شکار نہیں ہوا۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر نجیبہ عارف کو ان کی خدمات کے اعتراف میں تحائف پیش کیے گئے۔ تقریب کے موقع پر ان کی سالگرہ بھی منائی گئی اور کیک کاٹا گیا۔








