اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر نہ صرف درجنوں ممالک کے مندوبین ان کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ہال سے اٹھ کر چلے گئے بلکہ اس موقع پر اسرائیل کے خلاف احتجاجی اور مذمتی نعرے بھی لگائے گئے۔
جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیراعظم کو سبکی کا سامنا، درجنوں ممالک کے مندوبین خطاب کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ہال سے چلے گئے

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔24ستمبر (اے پی پی):اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر نہ صرف درجنوں ممالک کے مندوبین ان کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ہال سے اٹھ کر چلے گئے بلکہ اس موقع پر اسرائیل کے خلاف احتجاجی اور مذمتی نعرے بھی لگائے گئے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے 77 ممالک کے وفود کا اجتماعی بائیکاٹ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر بحث کا سبب بن گیا ہے جہاں صارفین نے اس منظر کو اسرائیل کے لیے ایک "زور دار طمانچہ” اور اس کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کا ثبوت قرار دیا ہے۔
ہال کے مناظر میں دکھایا گیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر شروع ہونے سے پہلے ہی وفود کی اکثریت نے ہال چھوڑ دیا جس پر وہ الجھن اور پریشانی کی حالت میں دکھائی دیے، اس دوران چند ہی شرکا اپنی نشستوں پر موجود رہے ۔عبرانی رپورٹس کے مطابق 77 ممالک کے نمائندے اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب سے غیر حاضر رہے اس منظر کو اسرائیلی میڈیا میں بھی بڑی اہمیت ملی چنانچہ چینل 14 نے اس اقدام کو "اسرائیل کے منہ پر تھوکنے” کے مترادف قرار دیا جبکہ روزنامہ "یدیعوت احرونوت” نے اسے "ڈرامائی احتجاج” سے تعبیر کیا۔ایک اور تجزیے میں اسرائیلی اخبار "ہارٹز” نےبنجمن نیتن یاہو کے خطاب کو بورنگ اور تکرار سے بھرپور قرار دیا۔
اخبار نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ خطاب بنیادی طور پر ان کے دائیں بازو کے حامیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے تھا جو کہ قابض حکومت کے سربراہ کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کے سیاق و سباق میں تھا۔عالمی میڈیا کی سطح پر برطانوی اخبار ’’گارڈین‘‘ نے اس منظر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بنجمن نیتن یاہو نے غزہ میں "مشن تمام کرنے” کا عزم ظاہر کیا جبکہ درجنوں ممالک کے وفود نے اپنے فیصلے کے ذریعے اس کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے ہال چھوڑ دیا۔
معروف امریکی اخبار اخبار "واشنگٹن پوسٹ” نے بنجمن نیتن یاہو کے جنر ل اسمبلی سے خطاب کے دوران متعدد ممالک کے وفود کے انخلا کو اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف "عالمی سطح پر شدید ردعمل” کی علامت قرار دیا جبکہ برطانوی اخبار ’’انڈیپنڈنٹ‘‘نے لکھا کہ بنجمن نیتن یاہو ویسے بھی ہر صورت میں صرف ایک ہی سامع سے مخاطب تھے۔ اس موقع پر نیویارک کے ٹائمز سکوائر کے اطراف میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا جس میں شرکا نے ایسے پلے کارڈز اٹھائے جن میں غزہ میں اسرائیلی جارحیت بند کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔








