آزاد کشمیر میں مستحق طبقات کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے لئے ’’بیک یارڈ پولٹری پروڈکشن فار ویمن‘‘ منصوبے کا آغاز

محکمہ لائیوسٹاک آزاد کشمیر نے معاشرے کے کمزور، مستحق طبقات کو بااختیار بنانے اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے’’بیک یارڈ پولٹری پروڈکشن فار ویمن‘‘ منصوبے کا آغاز کر دیا گیا۔

مظفر آباد۔ 24 ستمبر (اے پی پی):محکمہ لائیوسٹاک آزاد کشمیر نے معاشرے کے کمزور، مستحق طبقات کو بااختیار بنانے اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے’’بیک یارڈ پولٹری پروڈکشن فار ویمن‘‘ منصوبے کا آغاز کر دیا گیا۔ یہ منصوبہ وعدوں سے تکمیل تک، خواتین کی خود کفالت، خاندانوں کی خوشحالی اور آزاد کشمیر کی مضبوط معیشت کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد بیوہ، یتیم، نادار اور بالخصوص ایسی خواتین کو پولٹری پرندے فراہم کرنا ہے جو اپنے خاندان کی کفالت میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہتی ہیں، تاکہ انہیں محض امداد کا مستحق بنانے کے بجائے خود کفالت، باعزت روزگار اور معاشی استحکام کی جانب گامزن کیا جاسکے۔ محکمہ زراعت، لائیو سٹاک، آسماء و آبپاشی کے سیکرٹری چوہدری محمدرقیب اور ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اعجاز خان کی قیادت میں مظفرآباد میں منصوبے کا عملی آغاز کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر شبیر شیخ، ڈاکٹر ظہور شاہ، ڈاکٹر شاہد شیخ اور ڈاکٹر محمد اعجاز میر سمیت متعلقہ حکام اور ماہرین نے منصوبے کے آغاز اور کامیاب عملدرآمد کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ محکمہ لائیو سٹاک کے اعلی حکام کے مطابق بیک یارڈ پولٹری پروگرام کا مقصد مستحق خواتین کو گھریلو سطح پر پولٹری پالنے کے مواقع فراہم کرنا ہے، جس سے انہیں اضافی آمدن کے حصول، غذائی ضروریات پوری کرنے اور اپنے خاندان کی معاشی حالت بہتر بنانے میں مدد مل سکے گی۔اس منصوبے کے ذریعے خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے اور انہیں خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ایک چھوٹا پولٹری یونٹ بھی کسی خاندان کے لیے اضافی آمدن، بچوں کی تعلیم، بہتر خوراک اور معاشی تحفظ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس ترقیاتی منصوبے کے تحت حکومت آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو ترقی کے عمل میں شامل کرنے اور ترقی کے ثمرات عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کے عزم کی عملی عکاسی کرتا ہے۔ متعلقہ حکام نے اس امید کا اظہار کیا کہ منصوبے کے مؤثر اور شفاف عملدرآمد سے خواتین کی معاشی خود کفالت میں اضافہ ہوگا۔خاندانوں کی آمدن میں بہتری آئے گی اور آزاد کشمیر میں گھریلو سطح پر پولٹری کی پیداوار کو فروغ ملے گا۔