ملکی معیشت اور سفارتی تعلقات کے فروغ کے لیے سول، عسکری قیادت کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں، پاکستان لبنان کی علاقائی سالمیت اور آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے،وزیراعظم شہباز شریف

ملکی معیشت اور سفارتی تعلقات کے فروغ کے لیے سول، عسکری قیادت کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں، پاکستان لبنان کی علاقائی سالمیت اور آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے،وزیراعظم شہباز شریف

نیویارک ۔25ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ملکی معیشت اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہی ہے۔پاکستان لبنان کی علاقائی سالمیت اور آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے،افغانستان سے آنے والے دہشت گرد پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں اور پاکستان اس دہشت گردی کا بھرپور جواب دے رہا ہے۔جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی قیادت کی باہمی مشاورت اور ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں برکت عطا فرما رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت خطے میں امن کے قیام کیلئے اپنی کوششیں مزید تیز کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم خطے میں امن کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور لبنان دو برادر ممالک ہیں اور پاکستان لبنان کی علاقائی سالمیت اور آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان لبنان کے خلاف ہونے والی تمام زیادتیوں کی مسلسل مذمت کرتا رہا ہے، جبکہ بے گناہ لوگوں کا قتل کسی صورت قابل قبول نہیں۔آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں باب المندب کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ برادر اور دوست ممالک صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ایرانی صدر سے ملاقات کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں سے ایرانی صدر کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ تفصیلی ملاقات کے دوران انہوں نے ایرانی صدر سے کہا کہ خطے میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ ملک ہے اور ماضی کی طرح پاکستان کی سول اور عسکری قیادت امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایران کو مکمل طور پر قابل قبول ہے اور ایران اس پر مزید پیش رفت کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں برکت عطا فرما رہا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں اور بے گناہ شہریوں، فوجی و پولیس افسران اور اہلکاروں کو شہید کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات انتہائی قابل مذمت ہیں اور پاکستان اس دہشت گردی کا بھرپور جواب دے رہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔اس موقع پر لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے خطے میں صورتحال کو معمول پر لانے اور تنازع کے سفارتی حل کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے لبنان کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ لبنان خود کو خطے میں جاری وسیع تر تنازع سے الگ نہیں کر سکتا۔لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوں گی اور امید ہے کہ سفارتی حل تلاش کر لیا جائے گا۔