وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)اسلام آباد زون نے سخت محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 76 اہلکاروں و افسران کو مختلف سزائیں سنادی ہیں جن میں 1 سب انسپکٹر، 1 اے ایس آئی، 3 ہیڈ کانسٹیبلز، 4 کانسٹیبلز اور 1 یو ڈی سی سمیت 10 ملازمین کو نوکری سے برطرف جبکہ 2 اے ایس آئیز، 5 ہیڈ کانسٹیبلز اور 1 یو ڈی سی سمیت 8 ملازمین کی تنزلی …
ایف آئی اے اسلام آباد کی محکمانہ کارروائی ، 10 ملازمین برطرف مجموعی طور پر 76 سزائیں دی گئیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)اسلام آباد زون نے سخت محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 76 اہلکاروں و افسران کو مختلف سزائیں سنادی ہیں جن میں 1 سب انسپکٹر، 1 اے ایس آئی، 3 ہیڈ کانسٹیبلز، 4 کانسٹیبلز اور 1 یو ڈی سی سمیت 10 ملازمین کو نوکری سے برطرف جبکہ 2 اے ایس آئیز، 5 ہیڈ کانسٹیبلز اور 1 یو ڈی سی سمیت 8 ملازمین کی تنزلی (ڈیموشن) کر دی گئی ہے۔ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کے اردلی روم کے دوران سول سرونٹس رولز 2020ء کے تحت محکمانہ بے ضابطگیوں، غیر پیشہ ورانہ رویے اور عوامی شکایات پر یہ فیصلے صادر کیے گئے۔
متعلقہ افسران و اہلکاران کو ذاتی شنوائی کا مکمل موقع دیا گیا جس کے بعد شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر احکامات جاری کیے گئے۔برطرف کیے جانے والے 10 ملازمین میں سب انسپکٹر حسن علی، اے ایس آئی مبشر کاظمی، اپر ڈویژن کلرک محمد سوبان، ہیڈ کانسٹیبل طاہر محمود، میلون مسیح اور محمد بلال جبکہ کانسٹیبل طاہر صفیر، محمد احمد رضا، عاقب محمود اور طاہر محمود شامل ہیں۔عہدوں میں تنزلی کی سزا پانے والے 8 ملازمین میں اے ایس آئی محمد نیاز میر اور محمد وسیم اقبال کو ہیڈ کانسٹیبل، یو ڈی سی شیراز منظور کو ایل ڈی سی جبکہ ہیڈ کانسٹیبل رضوان علی خان، مسعود احمد، مدثر علی، الماس الیاس اور قاسم محمود کو کانسٹیبل کے عہدے پر تنزل کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں دیگر 58 محکمانہ سزائوں کے تحت 19 اہلکاروں کی 3 سال، 27 اہلکاروں کی 2 سال اور 5 ملازمین کی 1 سال کے لیے ترقی روک دی گئی ہے۔ ایک اہلکار کے پے سکیل میں 3 مراحل کی کمی جبکہ 6 ملازمین کو سرزنش کی سزا دی گئی۔ دوسری جانب احتساب کے ساتھ ساتھ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 3 افسران کو توصیفی اسناد (CC-II) سے بھی نوازا گیا۔ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کے مطابق ادارے میں کرپشن، نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی نافذ ہے، اچھی کارکردگی کی حوصلہ افزائی جاری رہے گی لیکن پیشہ ورانہ فرائض میں غفلت برتنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔








