گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج لگانے کے حوالے سے ابھی کوئی مشاورت نہیں ہوئی، جب مناسب وقت آئے گا تو اس پر بات ہوگی۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس وقت صوبے میں دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
صوبے میں گورنر راج لگانے کے حوالے سے ابھی کوئی مشاورت نہیں ہوئی، گورنر خیبرپختونخوا

مزید خبریں
پشاور۔ 25 ستمبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج لگانے کے حوالے سے ابھی کوئی مشاورت نہیں ہوئی، جب مناسب وقت آئے گا تو اس پر بات ہوگی۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس وقت صوبے میں دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ گزشتہ روز پشاور میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں پولیس اہلکار شہید ہوا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت امن و امان پر توجہ دینے کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ ’
’یہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، پتہ نہیں اسلام آباد کو کیا بنائیں گے۔‘‘فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے اور مناسب وقت آنے پر اس پر بات ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک ایسی کوئی مشاورت یا بات نہیں ہوئی ہے۔گورنر نے پولیس ایکٹ میں ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پولیس کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتی ہے۔ ’’ان کا ارادہ ہے کہ آئی جی، ڈی آئی جیز اور ڈی پی او کی تقرریاں یہ خود کریں، اس قسم کے ایکٹ کے خلاف ہم دیوار بنیں گے۔
‘‘پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اب خود اسلام آباد مارچ سے راہِ فرار اختیار کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کے اراکین اور رہنما خود راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں اور خود کو گرفتار کروا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی آج یا کل لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دے گی۔








