وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا مستقبل میں وبائی امراض کا پھیلائو روکنے کیلئے حیوانی صحت، بیماریوں کی نگرانی اور ’’ون ہیلتھ‘‘ نظام میں عالمی سطح پر مزید سرمایہ کاری پر زور
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا مستقبل میں وبائی امراض کا پھیلائو روکنے کیلئے حیوانی صحت، بیماریوں کی نگرانی اور ’’ون ہیلتھ‘‘ نظام میں عالمی سطح پر مزید سرمایہ کاری پر زور

مزید خبریں
روم ۔25ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے مستقبل میں وبائی امراض کے پھیلائو کو روکنے کے لیے حیوانی صحت، بیماریوں کی نگرانی اور ’’ون ہیلتھ‘‘ نظام میں عالمی سطح پر مزید سرمایہ کاری پر زور دیا ہے۔روم میں ایف اے او ہیڈکوارٹرز میں ’’ایف اے او اور پینڈیمک فنڈ: مضبوط حیوانی صحت کے نظام اور آئندہ وبائوں کی روک تھام کے لیے پائیدار حل‘‘ کے موضوع پر اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وبائوں کی روک تھام کے لیے بنیادی سطح پر اقدامات ضروری ہیں۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جمعہ کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق رانا تنویر حسین نے انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی عوامل کے باہمی تعلق سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے اور ایسے نظام مضبوط بنانے پر زور دیا جو کسی خطرے کو بحران بننے سے پہلے بروقت شناخت اور قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بڑے پیمانے پر موجود مویشیوں، انسانوں اور جانوروں کے درمیان قریبی روابط، آبادی کی نقل و حرکت اور بار بار آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ’’ون ہیلتھ‘‘ کے حوالے سے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیوانی صحت کا تحفظ نہ صرف عوامی صحت بلکہ غذائی تحفظ اور دیہی آبادی کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے پینڈیمک فنڈ کے تحت پاکستان میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو تقریباً 18.7 ملین ڈالر فراہم کئے گئے ہیں جبکہ 4.1 ملین ڈالر کی شریک مالی معاونت اور 49.7 ملین ڈالر کی مشترکہ سرمایہ کاری بھی متحرک کی گئی ہے۔
اس پروگرام کی قیادت وزارت قومی صحت، خدمات، ضوابط و رابطہ کاری کر رہی ہے جبکہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ قریبی رابطہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت، ایف اے او اور ایشیائی ترقیاتی بینک اس پروگرام کے نفاذ میں معاون اداروں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 18 ماہ سے بھی کم عرصے میں نمایاں پیش رفت حاصل کی گئی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ میں قومی ون ہیلتھ سیکریٹریٹ فعال ہو چکا ہے جبکہ پانچ علاقوں میں ون ہیلتھ یونٹس اور رابطہ کمیٹیاں قائم کی جا چکی ہیں۔حیوانی صحت کے شعبہ میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ویٹرنری لیبارٹری نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کا تقریباً تین چوتھائی کام مکمل ہو چکا ہے۔
صوبائی ویٹرنری لیبارٹریوں کا جائزہ لیا گیا ہے، اپ گریڈیشن کے منصوبے حتمی شکل اختیار کر چکے ہیں اور نمونوں کے حصول اور منتقلی کے لیے رہنما اصول جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی قومی پولٹری لیبارٹری کے بین الاقوامی معیار، جانچ پروگرام میں شمولیت کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔رانا تنویر حسین نے بتایا کہ الیکٹرانک اینیمل ڈیزیز رپورٹنگ اینڈ سرویلنس سسٹم کو بھی اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جس کی تمام صوبوں اور علاقوں نے توثیق کی ہے۔ اس نظام کے ذریعے مویشیوں میں بیماریوں کی نگرانی مزید موثر بنانے کے ساتھ ساتھ پہلی مرتبہ جنگلی حیات اور آبی حیوانات کے شعبوں کو بھی نگرانی کے دائرہ کار میں شامل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے صوبائی اور ضلعی سطح پر کثیر شعبہ جاتی فوری ردعمل ٹیموں اور فیلڈ ایپیڈیمیالوجی کی تربیت کا بھی ذکر کیا جس کا مقصد انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے ماہرین کو مشترکہ طور پر بیماریوں کے خطرات سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے وبائوں کی روک تھام میں حیوانی صحت کوئی ثانوی شعبہ نہیں بلکہ بنیادی دروازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیوانی اور ماحولیاتی صحت میں بروقت سرمایہ کاری مستقبل میں وبائوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی اور معاشی نقصانات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایک بڑے اور پیچیدہ وفاقی نظام میں ’’ون ہیلتھ‘‘ کے عملی نفاذ کے اپنے تجربات دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے اور ایف اے او، پینڈیمک فنڈ سیکریٹریٹ اور رکن ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔انہوں نے حیوانی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور ’’ون ہیلتھ‘‘ کے تصور کو آگے بڑھانے میں ایف اے او کی تکنیکی مہارت اور فیلڈ میں موجودگی کو سراہتے ہوئے وبائوں کی روک تھام، تیاری اور موثر ردعمل کے لیے عالمی تعاون اور پائیدار مالی معاونت جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔








