عوامی جمہوریہ چین کے قونصل جنرل لاہور سن یان نے پنجاب سٹیڈیم میں سیکرٹری یوتھ افیئرز اینڈ سپورٹس پنجاب فضل الرحمن سے ملاقات کی
چینی قونصل جنرل کی سیکرٹری یوتھ افیئرز اینڈ سپورٹس پنجاب سے ملاقات، سپورٹس کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

مزید خبریں
لاہور۔25ستمبر (اے پی پی):عوامی جمہوریہ چین کے قونصل جنرل لاہور سن یان نے پنجاب سٹیڈیم میں سیکرٹری یوتھ افیئرز اینڈ سپورٹس پنجاب فضل الرحمن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک چین تعلقات اور یوتھ و سپورٹس کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سیکرٹری یوتھ افیئرز اینڈ سپورٹس پنجاب فضل الرحمن نے اس موقع پر کہا کہ پاک چین کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات اہمیت کے حامل ہیں، دونوں ممالک کے درمیان دوستی، باہمی اعتماد اور عوامی روابط کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔انہوں نے 75 سالہ پاک چین سفارتی تعلقات کی مناسبت سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی، عوامی روابط اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ سیکرٹری سپورٹس پنجاب نے توانائی، انفراسٹرکچر، زراعت اور دیگر شعبوں میں پاکستان اور چین کے درمیان جاری تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوتھ انگیجمنٹ اور سپورٹس کے شعبے بھی دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ملاقات میں یوتھ انگیجمنٹ اور سپورٹس کے شعبوں میں پاک چین تعاون کے وسیع امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں جانب سے یوتھ وسپورٹس کو پاک چین عوامی روابط اور دوطرفہ دوستی کو مزید مضبوط بنانے کا موثر ذریعہ قرار دیا گیا۔ملاقات میں یوتھ انگیجمنٹ اور سپورٹس کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف امور پر اتفاق رائے ہو، دونوں جانب سے نوجوانوں اور کھلاڑیوں کے لیے مشترکہ مواقع پیدا کرنے اور باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔سیکرٹری یوتھ افیئرز اینڈ سپورٹس پنجاب فضل الرحمن اورعوامی جمہویہ چین کے قونصل جنرل لاہور سن یان نے پنجاب اور چین کے درمیان کھلاڑیوں، کوچز اور سپورٹس ماہرین کے تبادلے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر باصلاحیت پاکستانی کھلاڑیوں کو چین کی سپورٹس اکیڈمیز اور ہائی پرفارمنس ٹریننگ سینٹرز میں تربیتی مواقع فراہم کرنے کی تجویز پر بھی اتفاق کیا گیا۔
پنجاب میں تربیتی کیمپس کے انعقاد کے لیے چینی ماہر کوچز اور سپورٹس ماہرین کی خدمات سے استفادہ کرنے پر بھی اتفاق رائے کیا گیا۔ بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، ووشو اور دیگر کھیلوں میں چینی کوچز و ماہرین کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے مختلف پہلوئوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔








