پاکستان پر الزامات غلط،بھارت خود دہشتگردی کا بڑا سرپرست ہے،سائمہ سلیم

پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کے دہشت گردی کی سرپرستی اور فروغ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے ’’پراپیگنڈے کو ریاستی حکمت عملی‘‘ بنا لیا ہے۔پاکستانی مشن کی قونصلر سائمہ سلیم نے بھارتی مندوب پیٹل گہلوت کے بیان پر جنرل اسمبلی میں جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کی معاونت کر رہا …

اقوام متحدہ ۔26ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کے دہشت گردی کی سرپرستی اور فروغ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے ’’پراپیگنڈے کو ریاستی حکمت عملی‘‘ بنا لیا ہے۔پاکستانی مشن کی قونصلر سائمہ سلیم نے بھارتی مندوب پیٹل گہلوت کے بیان پر جنرل اسمبلی میں جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کی معاونت کر رہا ہے جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ شامل ہیں، یہ الزامات پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا چکا ، دہشت گردی کے باعث رواں صدی کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک لاکھ پاکستانی جانوں سے محروم ہوچکے ہیں۔صائمہ سلیم نے کشمیر کے معاملے پر بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی صورتحال کو یکساں قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مطابق آزاد کشمیر میں کشمیری سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور اپنی رائے کے اظہار کا حق رکھتے ہیں جبکہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں کشمیریوں کو بنیادی حقوق اور حق خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے۔

انہوں نے دریائے سندھ کے پانی سے متعلق 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارتی اقدام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا بنیادی وسیلہ ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔