نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان کا ورلڈ کنٹراسیپشن ڈے پر لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار اور معیاری صحت کی سہولتوں پر زور
نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان کا ورلڈ کنٹراسیپشن ڈے پر لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار اور معیاری صحت کی سہولتوں پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔26ستمبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے ورلڈ کنٹراسیپشن ڈے پر لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار اور معیاری صحت کی سہولتوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی 25.93 کروڑ ہے اور آبادی میں سالانہ 3.7 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی مرکزی سئکرٹریٹ سے جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فی عورت اوسطاً 3.6 بچے پیدا ہوتے ہیں جبکہ 17.3 فیصد جوڑوں کو فیملی پلاننگ کی مطلوبہ سہولتیں میسر نہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں مانعِ حمل طریقے استعمال کرنے کی شرح صرف 34 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار ماؤں کی دورانِ حمل یا زچگی کے دوران اموات ہوتی ہیں جبکہ ملک میں ہر ایک ہزار زندہ بچوں میں سے 62 بچے ایک سال کی عمر سے پہلے انتقال کر جاتے ہیں۔ شیری رحمان نے مزید کہا کہ مانعِ حمل طریقوں کا استعمال 34 سے 52 فیصد تک بڑھا کر ہزاروں ماؤں اور بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 38 لاکھ اسقاطِ حمل ہوتے ہیں، ہر ایک ہزار خواتین میں اسقاطِ حمل کی شرح 66 ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے سکول نہیں جا رہے،لڑکیوں کی تعلیم اور ہنر مندی پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے، خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری سے خاندان کے فیصلوں اور صحت کے نتائج بہتر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2040 تک موجودہ آبادی کے رجحان کے تحت پاکستان کو مزید 10.4 کروڑ ملازمتیں درکار ہوں گی، مزید ایک کروڑ 55 لاکھ گھروں اور 57 ہزار پرائمری سکولوں کی ضرورت ہوگی۔
شیری رحمان نے کہا کہ غیر ارادی حمل میں کمی اور ماں بچے کی بہتر صحت کے لیے فیملی پلاننگ کی آسان اور سستی سہولتیں ضروری ہیں، مانعِ حمل اشیا ضروری صحت کی مصنوعات ہیں، ان تک آسان رسائی یقینی بنانا ہوگی۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ملک کی پائیدار ترقی کے لیے لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کا روزگار، صحت اور فیملی پلاننگ کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔







