پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ دنیا بھر میں جبری بے دخلی کے بڑھتے ہوئے بحران کی بنیادی وجوہات کے حل کے لیے تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل کو اپنی ترجیحات میں مرکزی حیثیت دے۔سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام سیکرٹری خارجہ نبیل منیر نے کہا کہ دنیا بھر میں 11 کروڑ 70 لاکھ افراد …
جبری بے دخلی کا بڑھتا بحران ، اقوام متحدہ تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل کو اپنی ترجیحات میں مرکزی حیثیت دے،پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔26ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ دنیا بھر میں جبری بے دخلی کے بڑھتے ہوئے بحران کی بنیادی وجوہات کے حل کے لیے تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل کو اپنی ترجیحات میں مرکزی حیثیت دے۔سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام سیکرٹری خارجہ نبیل منیر نے کہا کہ دنیا بھر میں 11 کروڑ 70 لاکھ افراد جبری طور پر بے گھر ہوچکے ہیں، سلامتی کونسل کو نئے تنازعات کی روک تھام، طویل عرصے سے جاری تنازعات کے حل اور اقوام متحدہ کے چارٹر و بین الاقوامی قانون کے مطابق ثالثی اور تنازعات کے پرامن حل کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ طویل بحران مسلسل بے دخلی کا باعث بن رہے ہیں جبکہ نئے انسانی بحران بھی جنم لے رہے ہیں۔ نبیل منیر نے کہا کہ جبری بے دخلی میں اضافے کے باعث عالمی یکجہتی دباؤ کا شکار ہے اور پاکستان اس صورتحال سے بخوبی واقف ہے۔قائم مقام سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان چار دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کررہا ہے اور اقتصادی مشکلات کے باوجود انہیں تحفظ اور مہمان نوازی فراہم کرتا آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی آبادکاری کے عمل کو زیادہ قابل پیش گوئی اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، ترقی یافتہ ممالک کو کثیر سالہ پروگرام تشکیل دینے چاہئیں۔
انہوں نے رضاکارانہ واپسی اور پائیدار بحالی کے لیے عالمی تعاون میں اضافے پر بھی زور دیا۔نبیل منیر نے کہا کہ واپسی کا عمل رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار ہونا چاہیے اور اس کے لیے مناسب مالی وسائل سے چلنے والے پروگرام ضروری ہیں، ہمارا مشترکہ مقصد ایسی دنیا ہونی چاہیے جہاں کم سے کم لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوں اور بے گھر افراد سلامتی، وقار اور امن کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جاسکیں۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین بارہام صالح نے کہا کہ دنیا بھر میں 11 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد تنازعات، تشدد، ظلم و ستم اور دیگر خطرات کے باعث اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں، تنازعات میں اضافے اور ان کے طویل ہونے جبکہ سیاسی حل تلاش کرنے میں مشکلات کے باعث لاکھوں افراد جو عارضی بحران سے فرار ہوئے تھے کئی برس بلکہ بعض اوقات نسلوں تک بے گھر رہتے ہیں۔
بارہام صالح نے کہا کہ جب امن ناکام ہوتا ہے تو لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں، سلامتی کونسل کو اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازعات کے خاتمے اور امن عمل کو برقرار رکھنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر جنگ بندی خاندانوں کو اپنے گھروں میں رہنے کا موقع دے سکتی ہے جبکہ امن معاہدہ مہاجرین کی واپسی کی راہ ہموار کرسکتا ہے، تاہم انسانی ہمدردی کے ادارے جنگ کے نتائج سے نمٹ سکتے ہیں امن قائم نہیں کرسکتے۔








