انڈونیشیا کے شہر بانڈونگ میں واقع سی جالک ہاروپات اسٹیڈیم میں پاکستان کی مردوں کی قومی فٹبال ٹیم نے فیفا آسیان کپ میں اپنی تاریخ کا پہلا میچ کھیلا۔
پاکستان نے تاریخی فیفا آسیان کپ مہم کا آغاز تھائی لینڈ کے خلاف شکست سے کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔26ستمبر (اے پی پی):انڈونیشیا کے شہر بانڈونگ میں واقع سی جالک ہاروپات اسٹیڈیم میں پاکستان کی مردوں کی قومی فٹبال ٹیم نے فیفا آسیان کپ میں اپنی تاریخ کا پہلا میچ کھیلا۔ فیفا عالمی درجہ بندی میں پاکستان سے 105 درجے اوپر موجود تھائی لینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے نولبرٹو سولانو کی زیر قیادت پاکستانی ٹیم نے بھرپور عزم، حوصلے اور ہمت کا مظاہرہ کیا، تاہم ہفتے کے روز گروپ ’بی‘ کے ڈویژن ون کے میچ میں اسے 4-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تھائی لینڈ کی جانب سے تیراسک پوئی فیمائی نے تین گول کیے، جبکہ جوڈ بیل سون سوپ نے ایک گول اسکور کیا۔ اس شکست کے بعد پاکستان کو منگل کے روز فلپائن کے خلاف اپنے اگلے میچ سے قبل خود کو سنبھالنے اور بہتر تیاری کرنے کا موقع ملے گا۔ پاکستان نے میچ کے ابتدائی 30 منٹ کے دوران مضبوط دفاعی حکمت عملی اپناتے ہوئے تھائی حملوں کو محدود رکھا۔ محب اللہ کی شاندار گیند روکنے کی کوشش اور علی رضا کا عمدہ پھسلتے ہوئے کیا گیا ٹیکل اس دوران نمایاں رہے۔ پاکستان نے جوابی حملوں کے ذریعے بھی چند مواقع پیدا کیے۔ ایک خوبصورت حملہ علی اکبر کی شاندار دوڑ سے شروع ہوا، تاہم علی عزیر کی جانب سے لگائی گئی شاٹ تھائی دفاع سے ٹکرا کر رک گئی۔ تھائی لینڈ کو زیادہ تر دور سے گول کرنے کی کوششوں تک محدود رکھا گیا، جبکہ کھیل کے آدھے گھنٹے پر گول کیپر یوسف بٹ نے ایک شاندار بچاؤ کرتے ہوئے پاکستان کو گول سے محفوظ رکھا۔ تاہم چند ہی لمحوں بعد یوسف نے ایک اور عمدہ بچاؤ کیا، لیکن تیراسک پوئی فیمائی نے واپس آنے والی گیند کو جال میں پہنچا کر تھائی لینڈ کو برتری دلا دی۔ دس منٹ بعد تھائی لینڈ نے اپنی برتری دگنی کردی۔ کپتان عبداللہ اقبال کی غلط پاس کے نتیجے میں تھائی ٹیم نے تیزی سے حملہ کیا، جس کا اختتام جوڈ بیل سون سوپ کے قریب سے کیے گئے زوردار شاٹ پر ہوا۔ تھائی لینڈ نے حملے جاری رکھے اور صرف تین منٹ بعد گیند ایک مرتبہ پھر پاکستان کے جال میں پہنچا دی، تاہم اسے آف سائیڈ قرار دے دیا گیا۔ پاکستان کو دوسرے ہاف میں مزید توانائی اور تخلیقی کھیل کی ضرورت تھی، جس پر کوچ نولبرٹو سولانو نے وقفے کے دوران تین تبدیلیاں کیں۔ شائیک دوست، حیان خٹک اور عالمگیر غازی میدان میں آئے، جبکہ علی رضا، علی آغا اور عبداللہ شاہ کو واپس بلالیا گیا۔ دوسرے ہاف میں پاکستان نے زیادہ جارحانہ انداز اپنایا اور دونوں جانب سے کھیلنے والے محمد فضل اور حارث علی زیب نے بھی آگے بڑھ کر حملوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ تاہم کھیل کے ایک گھنٹے مکمل ہونے پر تھائی لینڈ نے ایک مرتبہ پھر گول کر دیا۔ تیراسک پوئی فیمائی نے ہوا میں آتی ہوئی گیند پر شاندار انداز میں پاؤں لگاتے ہوئے اسے بلند قوس کی شکل میں گول کے اندر پہنچا دیا۔ پاکستان نے فوری جواب دینے کی کوشش کی، لیکن عبدالصمد ارشد کی لگائی گئی شاٹ معمولی فرق سے گول سے باہر چلی گئی۔ سولانو نے تجربہ کار کلیم اللہ خان کو بھی میدان میں اتارا، تاہم پاکستان کی جانب سے گول کرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ کھیل ختم ہونے سے چھ منٹ قبل دفاع میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیراسک پوئی فیمائی نے گیند کو پاؤں کے بیرونی حصے سے خوبصورتی کے ساتھ گول کیپر کے اوپر سے جال میں پہنچایا اور اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کرلی۔








