دنیا بھر میں غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجہ خوراک کا ضیاع ہے، عالمی سطح پر روزانہ تقریباً 29 لاکھ ٹن غذا ضائع ہو جاتی ہے، عالمی آبادی کا تقریباً 8.2 فیصد حصہ بھوک یا خوراک کی عدم دستیابی کے مسائل کا شکار ہے۔ماہر خوراک حافظ بلال بشیر کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 8.3 ارب افراد آباد ہیں جبکہ 2080 کی دہائی کے وسط …
دنیا بھر میں غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجہ خوراک کا ضیاع ، عالمی آبادی کا تقریباً 8.2 فیصد حصہ خوراک کے مسائل کا شکار ہے، رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27ستمبر (اے پی پی):دنیا بھر میں غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجہ خوراک کا ضیاع ہے، عالمی سطح پر روزانہ تقریباً 29 لاکھ ٹن غذا ضائع ہو جاتی ہے، عالمی آبادی کا تقریباً 8.2 فیصد حصہ بھوک یا خوراک کی عدم دستیابی کے مسائل کا شکار ہے۔ماہر خوراک حافظ بلال بشیر کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 8.3 ارب افراد آباد ہیں جبکہ 2080 کی دہائی کے وسط تک آبادی تقریباً 10.3 ارب تک پہنچنے کا امکان ہے، بڑھتی آبادی بھوک اور افلاس کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتی ہے جن میں خوراک کی موجودہ پیداوار ، اس کی محفوظ طریقے سے تقسیم اور استعمال شامل ہیں۔
حافظ بلال بشیر نے کہا کہ ایف اے او کے اعدادوشمار کے پیش نظر دنیا میں بھوک اور افلاس کی وجہ خوراک کی کمی نہیں بلکہ اس کی ناقص تقسیم اور خوراک تک رسائی سمیت مہنگائی ہے، اسی طرح تنازعات ، موسمیاتی تبدیلیاں ، کمزور بنیادی ڈھانچہ ، ذخیرہ اندوزی اور خوراک کاضیاع بھوک اور افلاس کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ ایف اے او کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 673 ملین افراد بھوک کا سامنا کر رہے تھے جو مجموعی آبادی کا 8.2 فیصد حصہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق سال 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً 1.05 ارب ٹن خوراک ضائع کی گئی جو صارفین کےلئے دستیاب خوراک کا 19 فیصد بنتی ہے، اس طرح اوسطً فی شخص سالانہ تقریباً 132 کلوگرام خوراک ضائع کرتا ہے۔
حافظ بلال بشیر نے کہا کہ بچ جانے والی خوراک کو محفوظ کر کے مستحق افراد تک پہنچا کر بڑی حد تک بھوک کے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن اس کےلئے موثر اور منظم انتظامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے ضائع ہونے کا عمل فصل کی کٹائی کے دوران ہی شروع ہو جاتا ہے جس میں روایتی طریقہ کار، نامناسب وقت، نامواقف موسمیاتی حالات، کیڑے مکوڑے، بیماریوں کا حملہ، مزدوروں کی قلت اور مارکیٹ تک رسائی کے مسائل فصل کی تیاری سے سپلائی چین تک نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ اسی طرح خوراک کو ذخیرہ کرنے کے مناسب انتظامات کی عدم دستیابی اور نقل وحرکت کے مسائل ناقص پیکجنگ ، طویل فاصلے اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے مسائل بھی خوراک کے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔
حافظ بلال بشیر نے کہا کہ خوراک کے ضیاع کو روکنے کےلئے حکومت ، کاروباری اداروں، سپر مارکیٹس، کسان اور فلاحی تنظیموں کو چاہئے کہ سپلائی چین کی بہتری اور بچ جانے والی خوراک کو محفوظ کرنے اور خوراک کے عطیات کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ خوراک صرف شادیوں یا دیگر تقریبات میں ہی ضائع نہیں ہوتی بلکہ ہمارے گھر سے ہی خوراک کا ضیاع شروع ہو جاتا ہے جس پر قابو پانے کےلئے جامع حکمت عملی کے تحت آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھوک جیسے مسائل سے نمٹا جا سکے۔ واضح رہے کہ 2022 تک دنیا کے 21 مختلف ممالک نے خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کےلئے روک تھام کے اقدامات کو اپنے قومی ماحولیاتی منصوبوں کا حصہ بنایا تھا۔








