سیاحت پاکستان کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، سیاحتی ترقی سے ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہوگا، چیئرمین سینیٹ

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیاحت پاکستان کی تقدیر بدلنے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے عالمی یوم سیاحت کے موقع پر پیغام میں کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقے، پہاڑی وادیاں، وادی سندھ کی قدیم تہذیب، تاریخی مقامات اور مختلف مذاہب سے وابستہ صدیوں پرانے آثار و …

اسلام آباد۔27ستمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیاحت پاکستان کی تقدیر بدلنے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے عالمی یوم سیاحت کے موقع پر پیغام میں کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقے، پہاڑی وادیاں، وادی سندھ کی قدیم تہذیب، تاریخی مقامات اور مختلف مذاہب سے وابستہ صدیوں پرانے آثار و ثقافتیں ملکی سیاحتی ورثے کا قیمتی حصہ ہیں۔

پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں چاروں موسم اپنی منفرد خوبصورتی کے ساتھ پائے جاتے ہیں جو ملکی سیاحت کے فروغ کے لیے ایک قدرتی اور اہم اثاثہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی حسن، دلکش مناظر، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز وادیوں، صدیوں پرانی تہذیبوں اور تاریخی و ثقافتی ورثے سے مالا مال ملک ہے جو اسے دنیا کے اہم سیاحتی مقامات میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کا فروغ نہ صرف معاشی ترقی بلکہ روزگار کے نئے مواقع، مقامی آبادی کی معاشی خوشحالی اور مختلف علاقوں کے درمیان بہتر روابط کے قیام کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ سیاحتی شعبے میں ترقی سے مقامی افراد کے لیے کاروبار اور روزگار کے موثر مواقع پیدا ہوں گے جبکہ ملک کے مثبت تشخص کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کے قدرتی اور تاریخی سیاحتی مقامات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سڑکوں، مواصلاتی سہولیات، رہائش اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت، نجی شعبے، مقامی آبادی اور تمام متعلقہ اداروں کو مل کر سیاحت کے فروغ کے لیے موثر اور پائیدار اقدامات کرنا ہوں گے۔

چیئرمین سینیٹ نے جنگلات اور قدرتی ماحول کے تحفظ و فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے بغیر پائیدار سیاحت کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔ قدرتی وسائل، جنگلات، پہاڑوں، وادیوں اور دیگر ماحولیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کا امین ہے اور اس کا متنوع ثقافتی، مذہبی اور تاریخی ورثہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتا ہے۔ ملک میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں اور مختلف مذاہب سے وابستہ صدیوں پرانی عبادت گاہیں، تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثہ عالمی سیاحوں کے لیے باعثِ دلچسپی ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی، ثقافتی اور تاریخی سیاحت کے فروغ کے لیے پائیدار اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ پاکستان کا ایک پرامن، خوبصورت، ثقافتی اور سیاح دوست ملک کے طور پر مثبت تشخص بھی دنیا کے سامنے اجاگر ہوگا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیاحت کے فروغ، قدرتی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور پاکستان کے وسیع سیاحتی امکانات کو بروئے کار لانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر موثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔