ایف آئی اے نرسز فراڈ کیس،2افراد مجرم قرار، 92 متاثرہ نرسوں کو 92 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)اسلام آباد زون نے امیگریشن فراڈ کے ایک بڑے مقدمے میں دو افراد کو مجرم قرار دلوایا ہے، اس مقدمے کا تعلق 92 پاکستانی نرسوں سے ہے جنہیں جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر سعودی عرب بھیجا گیا اور ایک ماہ کے اندر ہی ان کو واپس (ڈی پورٹ)کر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد۔27ستمبر (اے پی پی):فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)اسلام آباد زون نے امیگریشن فراڈ کے ایک بڑے مقدمے میں دو افراد کو مجرم قرار دلوایا ہے، اس مقدمے کا تعلق 92 پاکستانی نرسوں سے ہے جنہیں جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر سعودی عرب بھیجا گیا اور ایک ماہ کے اندر ہی ان کو واپس (ڈی پورٹ)کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے ملزمان کو قید اور جرمانے کی سزا سنانے کے ساتھ ساتھ متاثرہ نرسوں کو 92 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ایف آئی اے کے حکام کے مطابق راولپنڈی میں قائم سپیشل کورٹ (سینٹرل)کے جج عبدالرحمٰن محمد عارف نے ایف آئی آر نمبر 103/2024 پر فیصلہ سنایا۔

یہ مقدمہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل (اے سی سی) اسلام آباد میں پاکستان پینل کوڈ امیگریشن آرڈیننس 1979 اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں 92 پاکستانی نرسیں شامل تھیں جنہیں جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر سعودی عرب بھیجا گیا تھا۔ سعودی عرب پہنچنے کے تقریباً ایک ماہ بعد ہی ان نرسوں کو واپس بھیج دیا گیا جس کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کیا اور بالآخر ملزمان پر مقدمہ چلا کر انہیں سزا دلوائی گئی۔انہوں نے بتایا کہ اس ہائی پروفائل کیس کی پیش رفت کی رپورٹس باقاعدگی سے وزیراعظم آفس کو بھی جمع کرائی جاتی رہی تھیں۔مرکزی ملزم غلام ذوالفقار علی عرف میاں ذوالفقار کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت ہر دفعہ پر سات سال قیدِ بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔اس کے علاوہ امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22 کے تحت بھی ہر دفعہ پر 10 سال قیدِ بامشقت اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

یہ تمام سزائیں بیک وقت (ساتھ ساتھ) چلیں گی۔ قید اور جرمانے کے علاوہ عدالت نے ضابطہ فوجداری (Code of Criminal Procedure) کی دفعہ 544-A کے تحت غلام ذوالفقار کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ 92 نرسوں میں سے ہر ایک کو ایک لاکھ روپے ادا کریں جو کہ مجموعی طور پر 92 لاکھ (9.2 ملین)روپے ہرجانہ بنتا ہے۔یہ ہرجانہ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد کے ذریعے متاثرہ نرسوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ دوسرے ملزم غلام فرید کو امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعہ 18 کے تحت تین سال قیدِ بامشقت اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔تاہم اسے شک کا فائدہ دیتے ہوئے امیگریشن آرڈیننس کی دفعہ 22 اور پی پی سی (PPC) کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت عائد الزامات سے بری کر دیا گیا۔فیصلے کے بعد دونوں مجرموں کو سینٹرل جیل راولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔

ایف آئی اے کے حکام نے کہا کہ یہ سزا ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل خان نیازی کی نگرانی میں کی گئی تفتیش اور قانونی کارروائی کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔تفتیشی افسر سب انسپکٹر کاشف ریاض اعوان، سب انسپکٹر احتشام گوندل اور اے ڈی لیگل صلاح الدین نے شواہد اکٹھے کرنے، تفتیش اور چالان کی تیاری پر کام کیا جس کے نتیجے میں عدالتی کارروائی عمل میں آئی۔ایف آئی اے اسلام آباد زون کا کہنا ہے کہ کامیاب قانونی کارروائی امیگریشن فراڈ اور انسانی سمگلنگ کے خلاف ایف آئی اے کے مسلسل اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔ ایف آئی نے کہا کہ بیرونِ ملک ملازمت کی جعلی سکیموں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔