اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے عمومی مباحثے میں ہفتہ کو خطاب کرنے والے متعدد مقررین نے عالمی اور علاقائی مسائل سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔شنہوا کے مطابق جنرل اسمبلی کے عمومی مباحثے میں 194 مقررین نے اپنے خیالات پیش کیے، جن میں کثیرالجہتی سفارت کاری، سلامتی کونسل میں اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کی ترقی و ممکنہ ضابطہ کاری سمیت مختلف عالمی امور زیر …
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں علاقائی مسائل کے حل کے لیے تعاون پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔28ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے عمومی مباحثے میں ہفتہ کو خطاب کرنے والے متعدد مقررین نے عالمی اور علاقائی مسائل سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔شنہوا کے مطابق جنرل اسمبلی کے عمومی مباحثے میں 194 مقررین نے اپنے خیالات پیش کیے، جن میں کثیرالجہتی سفارت کاری، سلامتی کونسل میں اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کی ترقی و ممکنہ ضابطہ کاری سمیت مختلف عالمی امور زیر بحث آئے۔
علاقائی مسائل کے ساتھ ساتھ پانی کے بحران پر بھی خصوصی توجہ مرکوز رہی۔مائیکرونیشیا کے نائب صدر آرن پالک نے کہا کہ ملک میں سمندری حیات اور مچھروں سمیت دیگر جانداروں سے منتقل ہونے والی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے، جس کے باعث صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے سمندری حکمرانی، پائیدار ماہی گیری اور سمندری حیاتیاتی تنوع کے مؤثر تحفظ کے لیے عالمی تعاون پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کی آلودگی بحرالکاہل کے ماحولیاتی نظام اور وہاں کی آبادیوں کے لیے خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیاسی عزم، مالی وسائل اور عملی اقدامات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔کیپ وردے کے وزیر اعظم فرانسسکو کاروالہو نے کہا کہ چھوٹی جزیرہ ریاستوں کے لیے موسمیاتی بحران مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ خطرہ ہے۔
انہوں نے خشک سالی، صحرائی پھیلاؤ، پانی کی قلت، سمندری تیزابیت اور سطح سمندر میں اضافے کو سنگین مسائل قرار دیا۔تاجکستان کے وزیر خارجہ سراج الدین محی الدین نے پانی کو اپنے ملک کی عالمی ترجیحات میں مرکزی حیثیت حاصل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہاڑی ملک ہونے کے ناطے تاجکستان پانی کی اہمیت اور اس کی حساسیت سے بخوبی آگاہ ہے۔کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز پاریلا نے امریکا پر اپنے ملک کے خلاف طویل مدتی اقتصادی پابندیوں اور دیگر اقدامات کا الزام عائد کیا، جبکہ کمبوڈیا کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ پراک سوکھون نے آن لائن فراڈ کے خلاف عالمی، علاقائی اور قومی سطح پر مربوط کارروائی پر زور دیا۔
لاؤس کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ تھونگساوان پھوم ویہانے نے جنگی دور کے باقی ماندہ غیر پھٹے بارودی مواد کے خاتمے کو ملکی ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جاسکتی ہے بلکہ زرعی زمین کو بھی محفوظ بنا کر ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔








