مودی دور حکومت میں انتخابی عمل اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری کے تناظر میں بھارت بھر میں احتجاج اور استعفوں کے مطالبات شدت اختیار کر گئے ، بھارتی انتخابی نظام عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور ماہرین نے بھارت میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مودی سرکار کا انتخابی نظام عالمی تنقید کی زد میں، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

مزید خبریں
نئی دہلی۔28ستمبر (اے پی پی):مودی دور حکومت میں انتخابی عمل اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری کے تناظر میں بھارت بھر میں احتجاج اور استعفوں کے مطالبات شدت اختیار کر گئے ، بھارتی انتخابی نظام عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور ماہرین نے بھارت میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
عالمی جریدے "دی سٹریٹس ٹائمز” کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے کانگریس مظاہرین پر بھارتی پولیس نے شدید آنسو گیس کی شیلنگ کی اور طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ دوسری جانب ہانگ کانگ کے اخبار "ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ” نے رپورٹ کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں دھاندلی اور سنگین بے ضابطگیوں پر سیاسی حلقوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بھارتی جریدے "دی وائر” کے مطابق پولیس نے ووٹر لسٹوں کی خرابیوں کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ اور عام شہریوں کو ہراساں کیا اور درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ ملکی و بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے متنازع ہونے سے بھارت میں نام نہاد جمہوری ساکھ اور شفاف انتخابات کے دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔








