ابوظہبی میں ڈیجیٹل دور کے جرائم سے نمٹنے کے لیے عالمی روڈ میپ منظور

ڈیجیٹل دور میں تیزی سے بدلتے جرائم سے نمٹنے کے لیے نیا عالمی لائحہ عمل متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقدہ اقوام متحدہ کی جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف سے متعلق 15ویں کانگریس کے افتتاحی اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔اقوام متحدہ کے مطابق ’’ابوظہبی اعلامیہ‘‘ میں سائبر کرائم، فراڈ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے مجرمانہ استعمال سمیت جرائم کے بدلتے ہوئے …

اقوام متحدہ ۔28ستمبر (اے پی پی):ڈیجیٹل دور میں تیزی سے بدلتے جرائم سے نمٹنے کے لیے نیا عالمی لائحہ عمل متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقدہ اقوام متحدہ کی جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف سے متعلق 15ویں کانگریس کے افتتاحی اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔اقوام متحدہ کے مطابق ’’ابوظہبی اعلامیہ‘‘ میں سائبر کرائم، فراڈ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے مجرمانہ استعمال سمیت جرائم کے بدلتے ہوئے منظرنامے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خدمات، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کو جرائم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ ’’کرائم ایز اے سروس‘‘ اور ’’وائلنس ایز اے سروس‘‘ جیسے نئے رجحانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ممالک نے انصاف کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے اور فوجداری انصاف میں مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا، تاہم اس عمل میں انسانی نگرانی، شفافیت، قانونی کارروائی کے تقاضوں اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کانگریس سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ انصاف کسی کے لیے مراعات نہیں بلکہ ہر فرد کے حقوق کے تحفظ اور کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے مشترکہ عزم کی تجدید اور اسے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کا موقع ہے۔ممالک ’’پلج فار جسٹس‘‘ اقدام کے تحت اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے 2031 تک جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف کے شعبوں میں ٹھوس اور مقررہ مدت کے اقدامات کا اعلان کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مونیکا جوما نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت نے جرائم کی نوعیت کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اربوں افراد کو باہم جوڑنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارم جرائم پیشہ عناصر کو بھی جوڑ سکتے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے غیر قانونی آمدن چھپانے اور ڈیجیٹل ذرائع سے لوگوں کو دھوکا دینے، متاثر کرنے اور استحصال کرنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک سرحدوں اور اداروں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس لیے بدلتے خطرات سے نمٹنے کے لیے قوانین اور اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، انصاف اور قانونی معاونت تک رسائی بڑھانا اور ٹیکنالوجی کو نقصان کے بجائے مثبت مقصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔کانگریس میں بچوں کو جرائم پیشہ گروہوں میں بھرتی کیے جانے، گھریلو یا آن لائن تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین، قانونی معاونت سے محروم افراد اور بہتر مستقبل کے وعدوں پر فراڈ نیٹ ورکس میں پھنسنے والے نوجوانوں سمیت متاثرہ طبقات کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں ہونے والی کانگریس یکم اکتوبر تک ’’ڈیجیٹل دور میں عوام اور کرہ ارض کا تحفظ‘‘ کے موضوع کے تحت جاری رہے گی۔

اجلاس میں تقریباً 119 ممالک کی نمائندگی، 40 سے زائد وزرائے انصاف اور اعلیٰ حکام سمیت حکومتوں، سول سوسائٹی، علمی اداروں اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے 5,100 سے زائد شرکا شریک ہیں۔کانگریس کے دوران اجلاس، ورکشاپس، ضمنی تقریبات اور نمائشیں منعقد ہوں گی، جبکہ نوجوانوں کی شرکت کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ نوجوان مختلف ورکشاپس، فالو اَپ سرگرمیوں، یوتھ لیب اور آرٹ نمائش میں حصہ لے رہے ہیں۔

 

مزید خبریں