پاکستان کا جرائم کی روک تھام کیلئے عالمی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور انسداد منشیات کی کوششیں تیز کرنے پر زور، سماجی و اقتصادی عدم مساوات، پسماندگی اور ڈیجیٹل و مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں، سفیر شفقت علی خان
پاکستان کا جرائم کی روک تھام کیلئے عالمی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور انسداد منشیات کی کوششیں تیز کرنے پر زور، سماجی و اقتصادی عدم مساوات، پسماندگی اور ڈیجیٹل و مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں، سفیر شفقت علی خان

مزید خبریں
ابوظہبی۔28ستمبر (اے پی پی):متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان نے جرائم کے خلاف عالمی تعاون مضبوط بنانے، ترقی پذیر ممالک کی استعداد کار بڑھانے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سماجی و اقتصادی عدم مساوات، پسماندگی اور ڈیجیٹل و مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
ابوظہبی میں پاکستانی سفارتخانے سے جاری بیان کے مطابق یو اے ای میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان نے ابوظہبی میں منعقدہ جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف سے متعلق اقوام متحدہ کی 15ویں کانگریس میں پاکستان کا قومی بیان پیش کیا۔سفیر شفقت علی خان نے کانگریس کی میزبانی پر متحدہ عرب امارات کو مبارکباد دی اور اس کی پرتپاک میزبانی اور بہترین انتظامات کو سراہا۔جرائم کے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر شفقت علی خان نے زور دیا کہ سماجی و اقتصادی عدم مساوات، پسماندگی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے لیے نئے عزم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی اور قانون کی حکمرانی ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔پاکستانی سفیر نے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے، قومی صلاحیتوں میں اضافے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے بامعنی تکنیکی معاونت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیا۔ سفیر نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی محفوظ، ذمہ دارانہ اور محتاط ترقی و استعمال کی اہمیت بھی اجاگر کی۔سرحد پار منظم جرائم اور منشیات کے عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر شفقت علی خان نے انسداد منشیات کے حوالے سے پاکستان کی دیرینہ کوششوں کو اجاگر کیا جن میں منشیات کی بڑی مقدار میں برآمدگیاں اور ملک کا پوست سے پاک ہونا شامل ہے۔
انہوں نے افغانستان میں افیون کی کاشت اور مصنوعی منشیات کی پیداوار میں ممکنہ اضافے نیز منشیات اور دہشت گردی کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ اور اس کے علاقائی سلامتی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالیاتی ترسیلات کے خلاف مضبوط بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا جن میں اثاثوں کی موثر بازیابی اور مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے سے روکنے کے اقدامات شامل ہیں۔سفیر شفقت علی خان نے انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور نشاندہی کی کہ نقل مکانی کے محفوظ، باقاعدہ اور کم خرچ راستے بھی ان چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام، اسلاموفوبیا کے متاثرین کے لیے قانونی تحفظ مضبوط بنانے اور باہمی افہام و تفہیم اور احترام کو فروغ دینے کے لیے قابل اعتماد اقدامات کا مطالبہ کیا۔جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف سے متعلق اقوام متحدہ کی کانگریس، اقوام متحدہ کا جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف کے حوالے سے اہم عالمی فورم ہے جو ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتا ہے اور جرائم کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ممالک اور متعلقہ فریقوں کو یکجا کرتا ہے۔








