فکری دہشت گردی عملی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے،اسلام اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے والی قوتوں کا بلا خوف و مصلحت فکری مقابلہ کرنا ہوگا، طاہر اشرفی

چیئرمین پاکستان علماء کونسل، سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل اور کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ عملی دہشت گردی سے زیادہ فکری دہشت گردی خطرناک ہے اور اس کے سدباب کے لئے علماء، مشائخ، جامعات، مدارس، مذہبی قوتوں اور حکومتوں کو مشترکہ طور پر ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے

مدینہ منورہ۔28ستمبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علماء کونسل، سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل اور کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ عملی دہشت گردی سے زیادہ فکری دہشت گردی خطرناک ہے اور اس کے سدباب کے لئے علماء، مشائخ، جامعات، مدارس، مذہبی قوتوں اور حکومتوں کو مشترکہ طور پر ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو اسلام اور جہاد کے نام پر گمراہ کرنے والے عناصر نے مسلم دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، نوجوان نسل کو ان گمراہ کن افکار سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انتہاپسند اور دہشت گرد گروہوں کے نظریات، مقاصد اور طرزِ عمل کو علمی اور فکری انداز میں بے نقاب کیا جائے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہم گزشتہ پینتالیس سال سے حالتِ جنگ میں ہیں اور 1990 سے آج تک ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، ہمیں ان تمام قوتوں کا راستہ روکنا ہوگا جو مذہب، اسلام اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں، خواہ وہ طالبان، القاعدہ، داعش یا حوثیوں کے نام سے ہوں، ان کے منحرف افکار کو بغیر کسی خوف، دباؤ یا مصلحت کے لوگوں بالخصوص نوجوان نسل کے سامنے رکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسلام امن، اعتدال، عدل اور انسانی حرمت کا دین ہے، دہشت گردی، انتہاپسندی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں، فکری انحراف کا مقابلہ صرف سکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ تعلیم، علم، مکالمے، علماء کی رہنمائی اور صحیح اسلامی فکر کے فروغ سے بھی کرنا ہوگا۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان معاملہ نہ شیعہ سنی تنازعہ ہے اور نہ محض دو ملکوں کا باہمی معاملہ، ان کے بقول حوثی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو یمن میں بے گناہ انسانوں کو قتل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح فلسطینی عوام کا قتل ناقابلِ قبول ہے، اسی طرح یمن میں بے گناہ انسانوں کا خون بہانا بھی قابلِ مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ حوثی اسلام اور فلسطین کا نام لیتے ہیں لیکن اسرائیلی جہازوں کو راستہ دیتے اور سعودی عرب کے جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے طرزِ عمل کا اسلام، اسلامی اخلاق اور فلسطینی عوام کی حقیقی حمایت سے کوئی تعلق نہیں۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ارضِ حرمین شریفین، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت، سلامتی اور امن پوری امتِ مسلمہ کے لئے مقدم ہے، عالمِ اسلام کے علماء، مفتیان اور مشائخ کا واضح اور متفقہ مؤقف ہے کہ حرمین شریفین یا ارضِ حرمین کی سلامتی پر حملہ پوری امتِ مسلمہ کے لئے ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور یمن کی حکومت کو اپنے عوام، اپنی سرزمین اور امن و سلامتی کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے اور ارضِ حرمین شریفین کے امن، استحکام اور دفاع کے لئے ہم مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مملکتِ سعودی عرب کی جانب سے فکری انحرافات، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے مقابلے کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن کے فروغ، وسطیت و اعتدال کے استحکام اور منحرف افکار کے مقابلے میں سعودی عرب کی کوششیں ایک کامیاب اور قابلِ قدر نمونہ ہیں۔عالمی کانفرنس کا افتتاح گورنر مدینہ منورہ صاحب السمو الملكي الأمير سلمان بن سلطان بن عبدالعزيز نے کیا۔ کانفرنس سے امام کعبہ الشیخ صالح بن حمید سمیت مختلف اسلامی ممالک کے کبار علماء، مفتیانِ کرام اور ممتاز اسلامی شخصیات نے خطاب کیا جبکہ مفتی اعظم سعودی عرب کا خصوصی پیغام دارالافتاء سعودی عرب کے سیکرٹری جنرل نے پڑھ کر سنایا۔کانفرنس میں مختلف اسلامی ممالک سے شریک علماء و مفتیان نے فکری انحراف، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے سدباب، وسطیت و اعتدال کے فروغ اور نوجوان نسل کے فکری تحفظ کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا اور اس امر پر زور دیا کہ مسلم نوجوانوں کو انتہاپسند نظریات سے محفوظ رکھنے کے لئے علمی، فکری اور تعلیمی سطح پر مربوط کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے۔