اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں عالمی یومِ حقِ معلومات کے موقع پر آگاہی سیمینار

خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں عالمی یومِ حقِ معلومات کے موقع پر آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا اور شفاف طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ کیا

پشاور۔ 28 ستمبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں عالمی یومِ حقِ معلومات کے موقع پر آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا اور شفاف طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ کیا۔ہر سال 28 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ حقِ معلومات منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد اس تصور کو اجاگر کرنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر فرد کو معلومات حاصل کرنے اور ان تک رسائی کا حق حاصل ہے۔اسی سلسلے میں خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کے اشتراک سے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے روز کیپل ہال میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں چیف انفارمیشن کمشنر خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن سید نظر حسین شاہ، انفارمیشن کمشنر ارشد احمد اور وائس چانسلر اسلامیہ کالج یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد الرحمان نے شرکت کی۔ اس موقع پر گزشتہ ایک سال کے دوران حقِ معلومات کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد میں آر ٹی آئی سووینئرز اور تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔تقریب میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ اور طلبہ سمیت سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔چیف انفارمیشن کمشنر سید نظر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقِ معلومات سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے خاتمے، عوامی احتساب کے فروغ، سرکاری اہلکاروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور بہتر طرز حکمرانی کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ سرکاری اداروں کے مالی اور انتظامی امور میں شفافیت یقینی بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔چیف انفارمیشن کمشنر نے کہا کہ حقِ معلومات کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ شہری سرکاری اداروں سے عوامی معلومات بلا معاوضہ حاصل کرسکتے ہیں، جس سے انہیں ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے عوامی فنڈز کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق معلومات تک رسائی ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ باخبر معاشرہ مثبت اور مؤثر رائے عامہ تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ حکومت اور ریاست پر عوام کے اعتماد کو بھی فروغ دیتا ہے، جو بالآخر شراکتی جمہوریت کے استحکام میں معاون ثابت ہوتا ہے۔خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن سید سعادت جہاں نے شرکاء کو سرکاری اداروں سے معلومات حاصل کرنے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے طلبہ کے لیے خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی عملی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ طلبہ اپنی تعلیم، تحقیق اور مستقبل کے پیشہ ورانہ امور میں حقِ معلومات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔مفاہمتی یادداشت کے تحت تعلیمی اداروں میں حقِ معلومات سے متعلق آگاہی اور اس کے مؤثر نفاذ کو فروغ دینے کے لیے دونوں ادارے باہمی تعاون کریں گے، جس سے شہریوں کو بااختیار بنانے اور طرز حکمرانی میں احتساب کے فروغ میں مدد ملے گی۔دونوں اداروں نے اس تعاون کو عوامی مفاد کے معاملات میں شہریوں کی شمولیت بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احمد الرحمان سلجوقی نے شفافیت کے فروغ کے لیے یونیورسٹی کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مفاہمتی یادداشت کے مقاصد کے حصول کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔