بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کے دوران ریاستی اداروں کی ساکھ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور ملک شدید ادارہ جاتی بحران کا شکار ہو گیا ہے
مودی سرکار میں ادارہ جاتی بحران شدت اختیار کر گیا، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ، طلبہ کی 2 اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کی کال

مزید خبریں
نئی دہلی۔29ستمبر (اے پی پی):بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کے دوران ریاستی اداروں کی ساکھ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور ملک شدید ادارہ جاتی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ بھارتی وزیرِ تعلیم کے بعد اب چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے جس سے ریاستی اداروں پر عوامی اور نوجوان طبقے کے عدم اعتماد کی تصدیق ہوتی ہے۔بھارتی جریدے ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق نوجوان تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے الگ ہونے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے 2 اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کی کال جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی طلبہ کی اس تحریک کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سونم وانگچک کا مؤقف ہے کہ ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابی عمل ہی ملک میں حقیقی جمہوری نظام کی بقا کی ضامن ہے۔ دریں اثنا بین الاقوامی انتخابی و آئینی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی مفاد پرستانہ اور متعصبانہ پالیسیوں نے بھارت کے آزاد اور آئینی اداروں کی کارکردگی اور شفافیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔








