اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے نسل پرستی کے خاتمے کے لیے رکن ممالک پر اتحاد اور ٹھوس عملی اقدامات کرنے پر زور دیا ہے
نسل پرستی کے خاتمے کے لیے اتحاد اور عملی اقدامات ضروری ہیں، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔29ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے نسل پرستی کے خاتمے کے لیے رکن ممالک پر اتحاد اور ٹھوس عملی اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔شنہوا کے مطابق انہوں نے ڈربن اعلامیے اور پروگرام آف ایکشن کی منظوری کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر اعلیٰ سطحی اجلاس کے افتتاح سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد ایک زیادہ پرامن، منصفانہ اور مساوی دنیا کی تعمیر میں مدد فراہم کرنا ہے جہاں ہر فرد کے وقار اور حقوق کا تحفظ ہو۔انہوں نے کہا کہ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد اخلاقی تقاضا اور مشترکہ ذمہ داری ہے۔ رکن ممالک نے نسل پرستی، ہر قسم کے امتیاز اور اجنبیوں کے خلاف تعصب سمیت دیگر متعلقہ عدم برداشت کے خاتمے اور متاثرہ افراد کے وقار، انسانی حقوق اور مساوات کے فروغ کا عزم کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا تدارک اتحاد اور عملی اقدامات میں ہے۔ حکومتوں کو امتیازی سلوک کے خاتمے اور مساوات سے متعلق قوانین کو مضبوط اور مؤثر طور پر نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ ان اداروں کو بھی مستحکم کرنا چاہیے جو ان قوانین پر عملدرآمد یقینی بناتے ہیں۔سیکرٹری جنرل نے نظامی امتیاز کے خاتمے اور جامع و مساوی معاشروں کے قیام کے لیے سرمایہ کاری پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو قیادت کرنا ہوگی تاہم معاشرے کے ہر فرد اور ادارے کا بھی کردار ہے۔ کاروباری اداروں کو براہ راست اور بالواسطہ امتیاز کی روک تھام اور ایسے کام کے ماحول کو یقینی بنانا چاہیے جہاں ہر فرد اپنی صلاحیتیں اور خیالات بروئے کار لا سکے۔انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے نظام میں موجود تعصبات کی نشاندہی، تدارک اور اصلاح کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی مساوات، شمولیت اور ڈیجیٹل انصاف کو فروغ دے، نہ کہ انہیں نقصان پہنچائے۔انہوں نے کہا کہ ڈربن اعلامیے اور پروگرام آف ایکشن کی منظوری کے 25 سال بعد بھی نسل پرستی کا مسئلہ موجود ہے۔ دنیا کو غلامی، نوآبادیاتی نظام اور نسلی امتیاز کے دیرپا اثرات کا ٹھوس اقدامات کے ذریعے سامنا کرنا ہوگا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ازالہ جاتی انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ نسلی امتیاز کی تمام اقسام کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کی عالمی سطح پر توثیق اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سب کو مل کر ہر فرد کے وقار، حقوق اور معاشرے میں شمولیت کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے اور ناانصافی کو مسترد کرتے ہوئے ایسے معاشروں کی تعمیر کرنی چاہیے جہاں نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔








