بھارت میں مودی سرکار کے زیرِ اثر چیف الیکشن کمشنر کو نوجوانوں اور اقلیتوں کی شدید مخالفت کا سامنا، ووٹر لسٹوں سے نام خارج کرنے پر تنازع شدت اختیار کر گیا

مودی حکومت کے دور میں بھارت کا انتخابی نظام شدید ادارہ جاتی بحران کا شکار ہو گیا ہے، جہاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مبینہ بے ضابطگیوں کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد بھارتی الیکشن کمیشن پر عوام اور سیاسی حلقوں کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔

نئی دہلی۔1اکتوبر (اے پی پی):مودی حکومت کے دور میں بھارت کا انتخابی نظام شدید ادارہ جاتی بحران کا شکار ہو گیا ہے، جہاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مبینہ بے ضابطگیوں کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد بھارتی الیکشن کمیشن پر عوام اور سیاسی حلقوں کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لیے خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کے ذریعے بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام ووٹر لسٹوں سے نکالے جانے کے خلاف ملک بھر کے نوجوان سراپا احتجاج بن کر سامنے آ گئے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے انتخابی عمل میں مبینہ ہیرا پھیری اور کٹھ پتلی کردار نے بھارت میں نام نہاد جمہوریت کے دعوؤں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ ادھر بھارتی جریدے ’ہندوستان ٹائمز‘ نے انکشاف کیا ہے کہ تنازعات کی شکار ریاست منی پور کے مسیحی اکثریتی علاقوں میں ایس آئی آر مہم کے دوران ایک لاکھ 58 ہزار 677 ووٹروں کے نام ووٹر لسٹوں سے حذف کر دیے گئے، جس سے اقلیتوں کے خلاف واضح امتیازی سلوک اور انتقامی کارروائی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔معروف بھارتی ماہرِ معاشیات پرکالا پربھاکر نے صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی ایس آئی آر کی آڑ میں دانستہ طور پر اقلیتوں اور محروم طبقات کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کر رہے ہیں تاکہ سیکولر آئین کے برعکس بھارت کو مکمل طور پر ایک ’اعلیٰ ذات ہندو ریاست‘ میں تبدیل کیا جا سکے۔