اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ مالی سال 2027 میں معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری متوقع اور بحالی کا عمل زراعت، صنعتی پیداوار اور نجی شعبے کے قرضوں تک پھیلنے کا امکان ہے، ستمبر 2026 میں مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد کی حد میں رہنے کی توقع ہے،مہنگائی کا رجحان بڑی حد تک عالمی تیل کی قیمتوں سے منسلک رہے گا۔ یہ بات وزارت …
2027 میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری متوقع ، ستمبر میں مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد رہنے کی توقع ہے، وزارت خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ مالی سال 2027 میں معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری متوقع اور بحالی کا عمل زراعت، صنعتی پیداوار اور نجی شعبے کے قرضوں تک پھیلنے کا امکان ہے، ستمبر 2026 میں مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد کی حد میں رہنے کی توقع ہے،مہنگائی کا رجحان بڑی حد تک عالمی تیل کی قیمتوں سے منسلک رہے گا۔
یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کے ذریعے کم آمدنی والے گھرانوں کو ڈیجیٹل نظام کے تحت ہدف پرمبنی معاونت فراہم کی جا رہی ہے،ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات سے آمدنی اور بیرونی کھاتوں کو مسلسل سہارا ملنے کی توقع ہے، زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر اور عالمی کیپٹل مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی سے بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر ہوگی ،تاہم عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتیں معاشی منظرنامے کے لیے بدستور بڑا خطرہ ہیں جو عوام کی قوتِ خرید، پیداواری لاگت اور درآمدی بل پر دبائو بڑھا سکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق آئندہ ترجیحات میں محصولات میں اضافہ، ریلیف اقدامات کو عارضی اور ہدفی رکھنا اور توانائی و ٹیکس اصلاحات کا عمل جاری رکھنا شامل ہے جن سے معاشی استحکام اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار معاشی نمو کی بنیاد مضبوط ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا حجم 7.3 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14.7 فیصد زیادہ ہے، اگست میں ترسیلات زر 3.7 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال اگست کے 3.1 ارب ڈالر کے مقابلے میں 16.5 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران ملکی برآمدات کا حجم 5.44 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 5.24 ارب ڈالر کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ اسی عرصے کے دوران درآمدات میں 11.4 فیصد اضافہ ہوا اور ان پر 11.6 ارب ڈالر زرمبادلہ خرچ ہوا، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں درآمدات کا حجم 10.4 ارب ڈالر رہا تھا۔
جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ 543 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 853 ملین ڈالر تھا۔ اسی عرصے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں سالانہ بنیاد پر 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک میں 494.5 ملین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم 398.6 ملین ڈالر تھا۔ رپورٹ کے مطابق 18 ستمبر 2026 کو سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر 5.4 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے،
گزشتہ سال 19 ستمبر کو سٹیٹ بینک کے ذخائر 14.4 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.4 ارب ڈالر تھے۔اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں ایف بی آر کی مجموعی محصولات 1.72 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی مہینے کے 1.61 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 3.7 فیصد زیادہ ہیں۔ وفاقی نان ٹیکس محصولات کا حجم جولائی میں 213.7 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال جولائی میں 208.2 ارب روپے تھا، نان ٹیکس محصولات میں 12.6 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق جولائی میں مالی خسارہ 596.6 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال جولائی میں 261.5 ارب روپے تھا، جبکہ پرائمری بیلنس 196.3 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال کے 228.9 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ میں زرعی شعبے کو فراہم کردہ قرضوں میں سالانہ بنیاد پر 16.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس عرصے میں زرعی شعبے کو 271.9 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں زرعی قرضوں کا حجم 233.7 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔14 ستمبر 2026 کو پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال 15 ستمبر کو پالیسی ریٹ 11 فیصد تھا۔ جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ میں عمومی مہنگائی کی اوسط شرح 10.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3.6 فیصد تھی۔رپورٹ کے مطابق اگست میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافے کی شرح 3.03 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
29 ستمبر 2026 کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس 169,600 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال 29 ستمبر کو انڈیکس 163,847 پوائنٹس پر تھا۔ 29 ستمبر 2026 کو مارکیٹ کیپٹلائزیشن 68.17 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال اسی تاریخ کو 68.10 ارب ڈالر تھی۔رپورٹ کے مطابق اگست میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 38.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔\








