فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ انکلیوسِو ڈویلپمنٹ (فائد) کا بزرگ افراد کے لیے بنیادی سہولیات کا بہتر اور مضبوط نظام بنانے پر زور

فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ انکلیوسِو ڈویلپمنٹ (فائد) کا بزرگ افراد کے لیے بنیادی سہولیات کا بہتر اور مضبوط نظام بنانے پر زور

اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ انکلوسِو ڈویلپمنٹ (فائد ) پاکستان میں بزرگ افراد کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر ان کی صحت، سماجی تحفظ، آمدنی اور دیگر بنیادی سہولیات کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تا کہ لوگ زیادہ عمر تک صحت مند، محفوظ اور باوقار زندگی گزار سکیں۔ہر سال یکم اکتوبر کو عالمی یومِ بزرگ افراد منایا جاتا ہے۔ یہ دن بزرگ افراد کے حقوق، ضروریات اور معاشرے میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ 2026 کے عالمی دن کا موضوع ہے:“طویل عمری کا دور: طویل زندگیوں کے لیے نظاموں پر ازسرِنو غور”اس سال کا موضوع اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ جب لوگ زیادہ عرصے تک زندہ رہ رہے ہیں تو ہمارے صحت، سماجی تحفظ، آمدنی اور کمیونٹی کے نظام بھی اس تبدیلی کے مطابق ہونے چاہئیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس ) کے مطابق سال 2023 کی مردم شماری میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 1 کروڑ 35 لاکھ سے زیادہ افراد ریکارڈ کیے گئے، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 5.6 فیصد ہیں۔ بزرگ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ بڑھاپے کو صرف فلاحی مسئلہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے صحت، ترقی، انسانی حقوق اور سماجی پالیسی کا اہم حصہ بنایا جائے۔فائد پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید معیز الدین کاکاخیل نے کہا کہ زیادہ عرصے تک زندہ رہنا ایک اچھی بات ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے نظام لوگوں کی طویل زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہوں۔

بزرگ افراد کو صحت کی سہولیات، مالی تحفظ، عزت اور اپنے خاندان اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بڑھاپے سے متعلق مسائل کو صرف ایک شعبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ صحت، سماجی تحفظ، روزگار، آمدنی، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر پالیسیوں میں بھی بزرگ افراد کی ضروریات کو سامنے رکھنا ہوگا۔فائد پاکستان کے مطابق پاکستان میں بزرگ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر خاص طور پر تین شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے:صحت کی بہتر سہولیات, بزرگ افراد کے لیے صحت کی ایسی سہولیات ضروری ہیں جو ان کی عمر اور ضروریات کو سمجھتے ہوئے خدمات فراہم کریں۔ بنیادی صحت کے مراکز اور کمیونٹی کی سطح پر صحت کی سہولیات کو مضبوط بنا کر بیماریوں کی بروقت نشاندہی، بچاؤ اور بہتر نگہداشت میں مدد مل سکتی ہے۔

دوسرا آمدنی اور سماجی تحفظ ، پاکستان میں بہت سے لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ غیر رسمی شعبے میں کام کرتے ہیں اور انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن یا مستقل آمدنی نہیں ملتی۔ ایسے افراد کے لیے سماجی تحفظ اور آمدنی کے بہتر مواقع ضروری ہیں تاکہ بڑھاپے میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اور شرکت اور عزت ، بزرگ افراد کو ان فیصلوں میں بھی شامل کیا جانا چاہیے جو ان کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کے تجربے اور رائے کو صحت، سماجی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، آفات سے نمٹنے اور کمیونٹی کی ترقی سے متعلق منصوبہ بندی میں جگہ ملنی چاہیے۔ ایسا ماحول بھی ضروری ہے جہاں بزرگ افراد اپنی صلاحیت کے مطابق معاشرے میں اپنا کردار جاری رکھ سکیں۔

فائد پاکستان نے خاص طور پر بزرگ خواتین کی ضروریات پر بھی توجہ دینے پر زور دیا ہے۔ بہت سی بزرگ خواتین کو آمدنی، صحت کی سہولیات، دیکھ بھال کی ذمہ داریوں، فیصلہ سازی اور سماجی تحفظ کے حوالے سے اضافی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس لیے پالیسیوں اور پروگراموں میں بزرگ خواتین کی مخصوص ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔طویل زندگی صرف زیادہ سال جینے کا نام نہیں۔

اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ لوگ ان اضافی سالوں میں صحت مند، محفوظ، باعزت اور اپنے خاندان اور معاشرے سے جڑے رہیں۔بزرگوں کے عالمی دن کے موقع پر فائد پاکستان حکومت، سول سوسائٹی، ترقیاتی اداروں، بزرگ افراد کے نیٹ ورکس اور کمیونٹیز کے ساتھ مل کر ایسے معاشرے کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے جہاں ہر شخص بڑھتی عمر میں بھی عزت، تحفظ اور بہتر زندگی کے مواقع حاصل کر سکے۔