بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اسلامی تحقیقاتی ادارے نے مسلم جنوبی ایشیا میں ’’اسلام اور مذہب‘‘ کے تصور کی حدود کے موضوع پر خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا
اسلامی یونیورسٹی کے اسلامی تحقیقاتی ادارے کا مسلم جنوبی ایشیا میں ’’اسلام اور مذہب‘‘ کے تصور کی حدود کے موضوع پر خصوصی لیکچر

مزید خبریں
اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اسلامی تحقیقاتی ادارے نے مسلم جنوبی ایشیا میں ’’اسلام اور مذہب‘‘ کے تصور کی حدود کے موضوع پر خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی، ایونسٹن کے شعبہ مذہبی مطالعات کے پروفیسر ڈاکٹر برینن ڈی انگرام نے لیکچر دیا جس میں اساتذہ، محققین اور طلبہ نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔
اسلامی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم نے افتتاحی کلمات میں پروفیسر انگرام کے زیر تکمیل کتابی منصوبے ’’اسلام اور مذہب کی سیاست ‘‘کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب مذہب کے تصور سے متعلق مسلمانوں کے مختلف فکری مباحث کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر برینن ڈی انگرام نے اپنے خطاب میں اسلام کو مذہب کے طور پر متعین کرنے کے تاریخی اور قانونی مضمرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ قرآنی اصطلاح ’’دین‘‘ کو انگریزی لفظ ’’مذہب‘‘ کے مترادف قرار دینا ایک تاریخی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے برصغیر میں برطانوی دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نوآبادیاتی نظام نے مذہب کو نجی عقیدے کے معاملے کے طور پر سمجھنے کے تصور کو فروغ دیا، جسے قانون، ثقافت اور سیاست سے الگ تصور کیا گیا۔
انہوں نے 1858ء کے ملکہ وکٹوریہ کے اعلان، نوآبادیاتی عدالتوں میں اسلامی فوجداری قانون کے خاتمے اور 1863ء کے مذہبی اوقاف ایکٹ کا بھی ذکر کیا۔ پروفیسر انگرام نے اسلام اور مذہب کے باہمی تعلق کے حوالے سے مسلم اہل علم کے تین مختلف فکری رجحانات بھی بیان کئے، جن میں ’’اسلام ایک مذہب ہے‘‘، ’’اسلام محض مذہب نہیں بلکہ طرز زندگی ہے‘‘ اور ’’اسلام مذہب نہیں ہے‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے تقسیم ہند سے قبل اور بعد کے مسلم علمی مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے اس موضوع پر پائے جانے والے مختلف فکری زاویوں کو اجاگر کیا۔ لیکچر کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست ہوئی جس میں شرکا نے موضوع کے تاریخی، قانونی اور فکری پہلوؤں پر اظہار خیال کیا اور مقرر کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔







