اسلام آباد ۔ 19 دسمبر (اے پی پی)سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے پہلے بھی عدلیہ کی بحالی کے لئے تحریک چلائی تھی اور اب عدل کی بحالی کے لئے تحریک چلائیں گے، پہلے ہم نے منصف کی بحالی کے لئے تحریک چلائی تھی اب انصاف کی بحالی کے لئے تحریک چلائیں گے، سپریم کورٹ کا ترازو انصاف کا ترازو ہونا چاہیئے، یہ تحریک …
سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 دسمبر (اے پی پی)سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے پہلے بھی عدلیہ کی بحالی کے لئے تحریک چلائی تھی اور اب عدل کی بحالی کے لئے تحریک چلائیں گے، پہلے ہم نے منصف کی بحالی کے لئے تحریک چلائی تھی اب انصاف کی بحالی کے لئے تحریک چلائیں گے، سپریم کورٹ کا ترازو انصاف کا ترازو ہونا چاہیئے، یہ تحریک انصاف کا ترازو نہیں ہونا چاہیئے، دوہرے معیار اور انصاف کا خون نہیں چلے گا، ہم اس پر بند باندھ کر کھڑے ہیں اور اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، اس طرح کے فیصلے اور دہرا معیار نہ ہم قبول کریں گے، نہ پارٹی اور نہ قوم قبول کرے گی، ہم بیوقوف یا بھیڑ بکریاں نہیں ہیں کہ آنکھیں بند کرکے یہ فیصلہ قبول کر لیں ۔منگل کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں نے قومی خزانے کو کیا نقصان پہنچایا ہے اور میں یہاں کس لئے آیا ہوں، سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ میرے حوالے سے آیا اور ایک فیصلہ ابھی کچھ روز قبل عمران خان کے حوالے سے آیا ہے، دونوں فیصلے آمنے سامنے رکھیں تو معلوم ہو گا کتنا دہرا معیار ہے یعنی مجھے تو رائی پر نااہل قرار دے دیا گیا اور ایک پہاڑ ہے اسے بچا لیا گیا ہے، یعنی ایک خیالی تنخواہ جو میں نے لی ہی نہیں وہ میرا اثاثہ بن گئی اور عمران خان کے لاکھوں پاﺅنڈز کی ٹرانزیکشنز، بنی گالہ کا گھر، نیازی سروسز لمیٹڈ اور فلیٹ، ان سب کو وہ خود تسلیم بھی کرچکا ہے کہ ہاں یہ میرے ہیں اور اس کی وڈیو میرے پاس ہے اور پاکستانی قوم نے دیکھی ہے اور سٹیٹ منٹس موجود ہیں، مگرکہا جارہا ہے کہ یہ اس کا اثاثہ نہیں ہے لہذا ہم اس کو نااہل قرار نہیںدے سکتے۔ وہ خیالی تنخواہ جو میں نے لی ہی نہیں وہ میرا اثاثہ بنا دی گئی اور ایک سیکنڈ میں وزیر اعظم کو نکال دیا گیا اور کوئی شک کا فائدہ بھی نہیں دیا گیا۔








