پاکستان میں ای ایس جی کا مستقبل صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ قابلِ پیمائش کارکردگی، شفاف اعداد و شمار اور عملی نتائج سے جڑا ہونا چاہئے، سینیٹر شیری رحمان
پاکستان میں ای ایس جی کا مستقبل صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ قابلِ پیمائش کارکردگی، شفاف اعداد و شمار اور عملی نتائج سے جڑا ہونا چاہئے، سینیٹر شیری رحمان

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ای ایس جی کا مستقبل صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ قابلِ پیمائش کارکردگی، شفاف اعداد و شمار اور عملی نتائج سے جڑا ہونا چاہئے،ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی امور پر بات صرف ماحولیات تک محدود نہیں بلکہ سیاست اور قانون کو بھی ساتھ دیکھنا ہوگا،پاکستان میں ای ایس جی سے متعلق آگاہی موجود ہے لیکن عملدرآمد میں بڑا خلا ء ہے۔ پیر کو پاکستان ایس جی پالیسی رپورٹ لانچنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی تقریباً 537 کمپنیوں میں سے بہت کم کمپنیاں قابلِ اعتماد ماحولیاتی معلومات فراہم کر رہی ہیں،صرف 18 فیصد کمپنیوں کے بورڈز میں ای ایس جی امور سے متعلق تربیت یافتہ ڈائریکٹر موجود ہیں جبکہ صرف 11 فیصد کاروباری ادارے پائیداری رپورٹس جاری کر رہے ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ پائیداری رپورٹس میں صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ زمینی حقیقت سامنے آنی چاہئے اور ان کی آزادانہ تصدیق و نگرانی کا مؤثر نظام ہونا چاہئے، کمپنیوں کو پائیداری کے لئے ترغیبات دی جائیں اور خلاف ورزی پر جرمانوں کا متوازن نظام بنایا جائے۔ شیری رحمان نے کہا کہ تمام لسٹڈ کمپنیوں کے لئے ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی امور کی رپورٹنگ لازمی بنانے کا مرحلہ وار نظام متعارف کرایا گیا ہے، یکم جولائی 2029 سے 25 ارب روپے سے زائد کاروبار، ایک ہزار سے زائد ملازمین یا 12.5 ارب روپے سے زائد اثاثوں والی کمپنیوں پر رپورٹنگ لاگو ہوگی،یکم جولائی 2030 سے 12.5 ارب روپے سے زائد کاروبار، 500 سے زائد ملازمین یا 6.25 ارب روپے سے زائد اثاثوں والی مزید بڑی کمپنیوں پر رپورٹنگ لاگو ہوگی۔
شیری رحمان نے کہا کہ یکم جولائی 2031 سے تمام باقی لسٹڈ کمپنیوں اور عوامی مفاد کی غیر لسٹڈ کمپنیوں کے لیے بھی رپورٹنگ لازمی ہوگی،2026 سے 2027 کے دوران جرمانوں کے ساتھ کمپنیوں کے لئے مراعات شامل کرنے والے قانون پر کام ہوگا،نجی شعبے پر پہلے ہی ٹیکسوں کا بڑا بوجھ ہے، نئی ماحولیاتی پالیسی کمپنیوں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گرین ٹیکسانومی کاروباری اداروں اور مختلف شعبوں کو پائیداری کے لئے مشترکہ زبان فراہم کرے گی اور اسے عالمی ماحولیاتی قوانین و یورپی یونین کے کاربن بارڈر نظام سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ شیری رحمان نے کہا کہ صرف جرمانوں پر مبنی قانون کا کوئی فائدہ نہیں، مراعات، واضح عملی طریقہ کار اور کاروباری شعبے کی شمولیت ضروری ہے۔پاکستان میں مینوفیکچرنگ بڑھانے کے ساتھ صاف اور ماحول دوست پیداوار کو بھی فروغ دینا ہوگا۔
شیری رحمان نے کہا کہ صاف ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، اخراج میں کمی، توانائی کی بچت اور بہتر فضلہ انتظام کے لئے کمپنیوں کو مؤثر مراعات دینا ہوں گی،ماحولیاتی قوانین کی پابندی صرف کاغذی کارروائی رہی تو زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی۔ شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان نے آلودگی کے باعث اپنے لئے نیا ماحولیاتی بحران پیدا کر لیا ہے، لاہور کئی بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست رہا۔ہوا کی آلودگی ہمارے اپنے اقدامات کا نتیجہ ہے، اس کی ذمہ داری بھی ہمیں خود اٹھانا ہوگی۔ شیری رحمان نے کہا کہ ماحولیاتی پالیسی کے لیے قوانین کے ساتھ واضح حکمت عملی، اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج مقرر کرنا ہوں گے، پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب عوام کی اپنی ضرورت اور فیصلوں سے آگے بڑھا ہے۔گزشتہ پانچ برس میں پاکستان میں 50 گیگا واٹ سے زائد سولر پینلز درآمد کیے گئے جن کی مالیت تقریباً 18 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کی سولر منتقلی نے ملک کے توانائی کے منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے، اب اسے قومی توانائی منصوبہ بندی سے جوڑنا ہوگا،شمسی توانائی کے ساتھ گرڈ، بیٹری اسٹوریج، تقسیم شدہ توانائی اور توانائی کی طلب کو بھی پالیسی میں شامل کرنا ہوگا۔
شیری رحمان نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ نے شمسی توانائی کو فروغ دیا لیکن اب اسے پائیدار اور منصفانہ انداز میں بہتر بنانے کی ضرورت ہے،دنیا فوسل ایندھن پر انحصار کم کر رہی ہے، پاکستان کو بھی صاف توانائی، توانائی خودکفالت اور ماحولیاتی لچک کے اہداف مقرر کرنا ہوں گے۔ شیری رحمان نے کہا کہ پائیداری کے لئے صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ واضح حکمت عملی، اہداف، کارکردگی کے پیمانے اور عملی نتائج ضروری ہیں،قانون سازی سے پہلے کاروباری شعبے کو اپنی تکنیکی تیاری مکمل کرکے حکومت اور پارلیمنٹ کے سامنے قابلِ عمل حل پیش کرنا چاہئے۔ شیری رحمان نے کہا کہ قانون سازی سے پہلے کم از کم تین قابلِ عمل پالیسی آپشنز اور ان کے ممکنہ نتائج سامنے لائے جائیں،پائیداری کے لئے سیاسی، عوامی اور کاروباری عزم کے ساتھ ماہرین، مقامی برادریوں اور سول سوسائٹی کی شمولیت بھی ضروری ہے،کاروباری شعبے کو حکومت اور پارلیمنٹ سے قانون آنے کا انتظار کرنے کے بجائے خود پائیداری کے لئے قیادت کرنا ہوگی۔
شیری رحمان نے کہا کہ ماحولیاتی لچک صرف حکومت سے نہیں بلکہ عوام سے پیدا ہوتی ہے،ای ایس جی قانون سازی کو پاکستان کی صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے اہداف سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔پاکستان میں ای ایس جی کا مستقبل صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ قابلِ پیمائش کارکردگی، شفاف اعداد و شمار اور عملی نتائج سے جڑا ہونا چاہئے۔








