وفاقی وزیرخزانہ محمداورنگزیب سے آئی ایف سی کے علاقائی ڈائریکٹرسائمن اینڈریوزکی ملاقات، نجی شعبے کی ترقی، سرمایہ کاری اور مالی سہولیات تک رسائی بڑھانےپر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیداواری سرمایہ کاری کے لیے ملکی وسائل کے ساتھ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی مالی معاونت سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایم ایز، کاروباری افراد، زراعت اور ہائوسنگ کے لیے طویل مدتی اور قابل استطاعت مالی سہولیات تک بہتر رسائی سے نجی سرمایہ کاری بڑھے گی، کاروبار کو وسعت ملے گی اور پیداواری …

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیداواری سرمایہ کاری کے لیے ملکی وسائل کے ساتھ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی مالی معاونت سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایم ایز، کاروباری افراد، زراعت اور ہائوسنگ کے لیے طویل مدتی اور قابل استطاعت مالی سہولیات تک بہتر رسائی سے نجی سرمایہ کاری بڑھے گی، کاروبار کو وسعت ملے گی اور پیداواری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔انہوں نے یہ بات منگل کویہاں آئی ایف سی کے پاکستان، افغانستان، کرغز جمہوریہ، تاجکستان اور ترکمانستان کے ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز سے ملاقات میں کہی ۔ آئی ایف سی پاکستان کی پرنسپل کنٹری آفیسر ناز خان بھی اس موقع پرموجود تھیں۔

ملاقات میں پاکستان میں نجی شعبے کی ترقی، سرمایہ کاری اور مالی سہولیات تک رسائی بڑھانے کے لیے آئی ایف سی کی جاری اور ممکنہ معاونت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے آئی ایف سی کے نمائندوں کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے ساتھ بالخصوص نجی شعبے کے لیے مالی معاونت اور سرمایہ کاری پر مبنی معاشی ترقی کے حوالے سے آئی ایف اسی کی مسلسل شراکت داری کو سراہا ۔ انہوں نے کاروباری افراد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت، سستی رہائش اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کو نجی سرمایہ کاری بڑھانے کے اہم شعبے قرار دیا۔وزیرخزانہ نے پاکستان میں بہتر ہوتے معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اب ان کامیابیوں کو زیادہ سرمایہ کاری، سرمائے کی تشکیل اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار معاشی ترقی میں تبدیل کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور مالی سہولیات تک رسائی بڑھانے کی اہمیت پربھی زور دیا۔آئی ایف سی کے نمائندوں نے وزیر خزانہ کو کاروباری افراد کے لیے ایک نئے فنڈ کے قیام پر پیش رفت سے آگاہ کیا جو متعلقہ شراکت داروں کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان میں نئے کاروبار اور سٹارٹ اپس کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے سستی رہائش کے شعبے میں پیش رفت سے بھی آگاہ کیا جہاں تعمیراتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت کے ذریعے گھروں کی فراہمی بڑھانے کے امکانات پر کام کیا جا رہا ہے۔زرعی شعبے میں گفتگو آئی ایف سی کے ایگری کنیکٹ اقدام پر مرکوز رہی۔

اس میں زرعی اجناس کو محفوظ رکھنے کی بہتر سہولیات اور الیکٹرانک ویئر ہائوس رسیدوں کو ضمانت کے طور پر استعمال کرکے کسانوں اور زرعی شعبے کے لیے نجی قرضوں اور سرمایہ کاری تک رسائی بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے زرعی شعبے میں رکاوٹیں دور کرنے اور قرض دینے والے اداروں اور کسانوں کے لیے زیادہ اعتماد اور سہولت پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری بھی ملاقات کا اہم موضوع رہی۔ آئی ایف سی نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ پانی اور بجلی کے شعبوں میں جاری کام سے آگاہ کیا جن میں پانی کے معیار اور محفوظ فراہمی کو بہتر بنانے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں میٹرنگ نظام کو جدید بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ اس موقع پر نجی شعبے کی شراکت سے خدمات بہتر بنانے، نقصانات کم کرنے اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔

وزیر خزانہ اور آئی ایف سی نے مقامی کرنسی میں قرضوں اور مالی معاونت کے مواقع بڑھانے اور نجی شعبے کے منصوبوں کے لیے طویل مدتی مالی وسائل کی فراہمی بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیداواری سرمایہ کاری کے لیے ملکی وسائل کے ساتھ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی مالی معاونت سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، کاروباری افراد، زراعت اور ہاوسنگ کے لیے طویل مدتی اور قابل استطاعت مالی سہولیات تک بہتر رسائی سے نجی سرمایہ کاری بڑھے گی، کاروبار کو وسعت ملے گی اور پیداواری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

انہوں نے ان شعبوں کے لیے نئے مالیاتی حل تیار کرنے اور نجی سرمایہ کاری بڑھانے میں آئی ایف سی کے کردار کو سراہا۔فریقین نے نجی شعبے کے لیے مالی معاونت، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ مالی سہولیات تک رسائی بڑھے، نئے کاروبار کو فروغ ملے اور پاکستان کی پائیدار اور سرمایہ کاری پر مبنی معاشی ترقی کے لیے ملکی و بین الاقوامی نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔