اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) پارلیمان کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ شنگھائی الیکٹرک کراچی میں 900 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گی،گزشتہ 7 سال میں نقصانات35 فیصد سے کم ہو کر 21 فیصد رہ گئے ہیں،کراچی شہر کا 62 فیصد علاقہ لوڈ شیڈنگ سے پاک ہے،کے الیکٹرک کے ذمہ واجبات 51 ارب روپے، صارفین کے ذمہ واجبات 97 ارب روپے ہیں۔ پبلک …
پارلیمان کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 دسمبر (اے پی پی) پارلیمان کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ شنگھائی الیکٹرک کراچی میں 900 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گی،گزشتہ 7 سال میں نقصانات35 فیصد سے کم ہو کر 21 فیصد رہ گئے ہیں،کراچی شہر کا 62 فیصد علاقہ لوڈ شیڈنگ سے پاک ہے،کے الیکٹرک کے ذمہ واجبات 51 ارب روپے، صارفین کے ذمہ واجبات 97 ارب روپے ہیں۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس سید خورشید شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کے الیکٹرک، کابینہ ڈویژن اورپاورڈویژن کے مالی حسابات کا جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین کے علاوہ متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ ایم ڈی کے الیکٹرک نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کے ای ایس سی سے کے الیکٹرک تک کا سفر مشکل تھا، جس وقت نجکاری ہوئی لوڈشیڈنگ بہت زیادہ تھی، ادارہ کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں تھی۔ کے الیکٹرک کی بہتری کیلئے اقدامات کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ معاہدہ کے تحت 160 ارب روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کی گئی، بن قاسم پلانٹ کی استعداد ایک ہزار میگاواٹ تک بڑھائی گئی ہے، گیس سے بجلی کی پیداوار اسوقت ایک ہزار میگاواٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کے الیکٹرک نے 13 اضافی گرڈ اسٹیشن بنائے تاہم ان کا کہنا تھا کہ کنڈا کلچر میں کمی ضرور آئی لیکن اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔انہوں نے بتایا کہ چوری پر قابو پانے کیلئے انسولیٹڈ کیبلز کا استعمال کیا جا رہا ہے، گزشتہ 7 سال میں نقصانات 35 فیصد سے کم ہو کر 21 فیصد رہ گئے ہیں، کراچی میں پرانے ناقص میٹرز کی مفت تبدیلی کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔








